You are reading a tafsir for the group of verses 79:37 to 79:39
فاما من طغى ٣٧ واثر الحياة الدنيا ٣٨ فان الجحيم هي الماوى ٣٩
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ٣٧ وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ٣٨ فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ٣٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

فاما ................................ الماوی (39:79) ” تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی ، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ طغیان اور سرکشی کا مفہوم وسیع تر ہے ، یہ ہر اس شخص پر صادق آتا ہے جو حق اور ہدایت کی راہ سے متجاوز ہوتا ہے۔ اس کے حدود قوت اور جبر اور اقتدار اعلیٰ کے بل بوتے پر ظلم اور تجاوز کرنے والے سرکشوں سے زیادہ وسیع ہیں۔ ہر وہ شخص جو دنیا پرست ہے اور راہ ہدایت سے ادھر ادھر متجاوز ہوتا ہے۔ وہ باغی اور طاغی ہے جس کی بڑی صفت یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ آخرت کی جوابدہی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی فکر ہی انسان کے ضمیر اور اس کے عمل میں توازن پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی آخرت کو بھلا دے یا آخرت پر دنیا کو ترجیح دے تو اس کی قدروں اور پیمانوں کے درمیان خلل پڑجاتا ہے اور اس کے تمام پیمانے اور قدریں بدل جاتی ہیں۔ اس کا شعور اور طرز زندگی بدل جاتا ہے۔ چناچہ وہ باغی ، طاغی اور حدود سے تجاوز ہوکر ظلم کا ارتکاب کرتا ہے۔ چناچہ اس کا انجام یہ ہوتا ہے : ” دوزخ اس کا ٹھکانہ ہوتی ہے “۔ وہ دوزخ جو کھلی تھی اور حاضر تھی اور عظیم دن میں اس کو نمایاں کرکے رکھ دیا گیا تھا۔