You are reading a tafsir for the group of verses 79:20 to 79:21
فاراه الاية الكبرى ٢٠ فكذب وعصى ٢١
فَأَرَىٰهُ ٱلْـَٔايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ ٢٠ فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ٢١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

فارہ ................ وعصی (21:79) ” پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی دکھائی ، مگر اس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ بات پہنچادی جو پہنچائی تھی۔ اور اسی انداز میں اور اسی اسلوب میں پہنچادی جس میں ان کے رب نے ان کو حکم دیا تھا لیکن اس قسی القلب اور سرکش آدمی کے ہاں یہ اسلوب ، کامیاب نہ ہوا کیونکہ مرد نادان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہوا کرتا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عظیم معجزات پیش کیے ، عصا پیش کیا اور یدبیضا پیش کیا ، جیسا کہ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں۔ تو اس نے ” جھٹلایا اور نہ مانا “ یوں اختصار کے ساتھ یہ منظر تکذیب اور معصیت پر ختم ہوتا ہے۔

اب اسی اختصار کے ساتھ ایک دوسرا منظرسامنے آتا ہے۔ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی جگہ ہی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ اور سحر اور سچائی کا مقابلہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا کبروغرور یہ کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر آجائے اور حق کو قبول کرے۔