اذھب .................... فتخشیٰ (19:79) ” فرعون کے پاس جاوہ سرکش ہوگیا ہے ، اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “۔
اذھب .................... طغی (17:79) ”’ فرعون کے پاس جاﺅوہ سرکش ہوگیا ہے “۔ سرکشی ایسا گناہ ہے کہ اسے واقع ہی نہیں ہونا چاہئے اور اگر یہ سرزد ہوجائے تو اسے باقی نہیں رہنا چاہئے۔ یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ اللہ سرکشی کو پسند نہیں کرتا ، سرکشی کے نتیجے میں بیشمار مکروہات جنم لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بلند ترین انبیاء میں سے ایک ممتاز نبی کو صرف اس لئے بھیجا کہ فرعون کی سرکشی کو مٹادے اور یہ ڈیوٹی اللہ نے ان کے ساتھ خود ہمکلام ہوکر لگائی۔ براہ راست یہ حکم دیا گیا اور یہ مشن ان کے سپرد کیا گیا تاکہ یہ ممتاز نمائندہ اس شر کو ختم کرے۔ اور دنیا سے اس فساد کو دور کرے ، یہ ایک نہایت ہی کریہہ فعل ہے کہ حکمرانوں میں سے کوئی سرکش اور ظالم ہو۔ اسی لئے اللہ نے بذات خود براہ راست یہ مشن اپنے ایک بندے کے سپرد کیا۔ اور حکم دیا کہ اس شخص کو اس حالت سے نکال کر انصاف کی راہوں پر لے آﺅ، اگر وہ نہ آئے تو اس پر دنیا وآخرت کی سزا اور عذاب نازل کرنے کا جواز پیدا ہو۔
اذھب ........................ طغی (17:79) ” فرعون کے پاس جاﺅ کہ وہ ظالم و سرکش ہوگیا ہے “۔ اس کے بعد اللہ اپنے بندے کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ اس سرکش اور ظالم کے دربار میں انہوں نے اپنا پیغام اور دعوت کس اسلوب میں پیش کرنی ہے۔ نہایت نرم ، پرکشش اور محبت بھرے انداز میں۔ شاید کہ وہ باز آجائے اور اس کے دل میں بات اترجائے۔ اور اللہ کے غضب اور عذاب سے بچ نکلے۔
فقل ھل .................... تزکی (18:79) ” کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے “۔ کیا تو اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ اس سرکشی اور ظلم کی گندگی سے نکل آئے۔ اور اللہ کی نافرمانیوں کو ترک کردے۔ کیا تو نماز ، دعا اور برکت کی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔
واھدیک ................ فتخشی (19:79) ” اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “ کیا تیرے اندر یہ خواہش ہے کہ تو اپنے رب کے راستے کے نشیب و فراز سے واقفیت حاصل کرے۔ اگر تو رب کی راہوں پر چلے گا تو تیرے دل میں رب کا خوف پیدا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ظالم اور سرکش تب ہی بنتا ہے جب اپنے رب سے دور چلا جائے۔ راہ حق بھلا دے اور سنگدل ہوکر فساد اختیار کرے۔ اس طرح وہ آخر کار سرکشی اور ظلم کو اپناوطیرہ بنالیتا ہے۔
یہ بات تو اس وقت کی گئی ہے جب اللہ کی جانب سے آواز آئی اور یہ عظیم مشن حضرت موسیٰ کے سپرد کیا گیا اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے۔ تو انہوں نے یہی بات دہرائی جو اللہ نے سکھائی کہ ایسا کہو ، لیکن تبلیغ کے وقت کی جو منظر کشی کی گئی اس میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ویسا ہی کہا ہوگا جس طرح اللہ نے فرمایا کہ یوں کہو۔ لہٰذا سپردگی مشن کے وقت جو بات کہی گئی اسے یہاں حذف کردیا اور بات مختصر کردی اب یہاں آکر یہ منظر نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور آخری بات کہی جاتی ہے۔