حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ قرآن کریم میں بار بار آیا ہے۔ اور اس کی بہت تفصیلات دی گئی ہیں۔ اس سے قبل کی سورتوں میں اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ ہر جگہ اس قصے کا حصہ آیا ہے۔ مختلف انداز اور مختلف اسلوب بیان میں آیا ہے۔ ہر جگہ قصے کا وہ حصہ اور اس انداز میں آیا ہے ، جس کی ضرورت ہو اور جو موضوع ومحل کے مناسب ہو۔ اس قصے کے بیان میں قرآن کریم کا اسلوب بیان اپنے عروج پر ہوتا ہے اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے کہ وہ قصے کو نہایت برمحل اور مناسب انداز میں پیش کرتا ہے۔
یہاں یہ قصہ نہایت اختصار کے ساتھ آیا ہے ، اس کے مناظر جھلکیوں کی شکل میں بڑی تیزی سے گزرجاتے ہیں۔ کوہ طور کی وادی مقدس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا جاتا ہے۔ اور انہیں فرعون کی طرف تبلیغی مشن پر جانے کے احکامات دیئے جاتے ہیں اس کی سرکشی اور پھر دنیا وآخرت میں اس کے انجام بد اور اللہ کی گرفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں اس کا انجام اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے کیونکہ سورت کا بنیادی موضوع ہے حشرونشر اور حساب و کتاب ہے۔ چند مختصر آیات میں ، الف کے ساتھ طویل مد کے ترنم کے ساتھ اس قصے کی جھلکیاں بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتی ہیں۔ یوں اس کا انداز اور اس کا اثر اس سورت کے مزاج کے مطابق ہوجاتا ہے۔
ان مختصر آیات میں نہایت تیزی اور سرعت کے ساتھ اس قصے کے کئی پہلو دکھائے گئے ہیں۔
اس کا آغاز حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کرکے کیا جاتا ہے۔
ھل اتک ................ موسیٰ (15:79) ” کیا تمہیں موسیٰ کے قصے کی خبر پہنچی ہے ؟ “۔ یہ سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ مخاطب پوری توجہ سے قصے کو سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہوجائے اور پوری طرح اخذ کرلے۔
اس کے بعد پھر واقعات کی تفصیلات آتی ہیں۔ اس قصے کو لفظ حدیث (بات) سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ قصہ دراصل ہے ہی موسیٰ اور رب کا مکالمہ۔ اس لئے لفظ حدیث لانا نہایت واقعیت پسندی ہے۔ چناچہ سوال و جواب اور رب کے ساتھ مناجات۔