انہ فکر .................... البشر (74:18 تا 25) ” اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔
انداز تعبیر ایسا ہے کہ ایک ایک لمحے ، ایک ایک سوچ اور ایک ایک حرکت کی تصویر کشی کی جارہی ہے۔ گویا ایک ماہر عکاس کی قلم ہے جو تصویر بناتی جاتی ہے ، الفاظ نہیں بلکہ رنگ بھرے جارہے ہیں۔ نہیں گویا ایک ریل چل رہی ہے اور ایک ایک منظر نظروں کے سامنے آرہا ہے۔ جو لمحہ بہ لمحہ بدل رہا ہے۔
ایک تصویر میں یوں نظرآتا ہے کہ ہر شخص سخت غور وفکر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس منظر میں اسے ایک بددعا بھی دی جاتی ہے۔