واذکر .................... تبتیلا (73:8) ” اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو “۔ اللہ کے نام کے ذکر سے مراد صرف یہ نہیں کہ کوئی صرف اللہ کا نام ہی جپتا رہے۔ اور سو دانوں یا ہزار دانوں کی تسبیح رولتا رہے ، بلکہ اس بےیہ ذکر مراد ہے کہ زبان پر اللہ کا نام ہو اور دل میں اللہ کی شان حاضر ہو۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھو جس میں اللہ کا ذکر ہی ذکر ہے اور تلاوت قرآن ہے اور تبتل کے معنی ہیں اللہ کے سوا ہر چیز سے کٹ جانا اور پوری طرح عبادت اور ذکر میں مشغول ہوجانا ہر شغل اور ہر تصور سے ایک طرف ہوجانا ، اور اپنے مشاعر اور تصورات کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
جب تبتل کا ذکر ہوا جس کا مفہوم ہے اللہ کے سوا ہر چیز سے کٹ جانا ، تو اس کے ساتھ اس بات کی تصریح ضروری ہوگئی کہ یہ واضح کردیا جائے کہ اللہ کے سوا کوئی اس کا اہل ہی نہیں ہے۔ اللہ ہی فقط اس بات کا مستحق ہے کہ انسان اس کی طرف متوجہ ہو۔