You are reading a tafsir for the group of verses 71:5 to 71:14
قال رب اني دعوت قومي ليلا ونهارا ٥ فلم يزدهم دعايي الا فرارا ٦ واني كلما دعوتهم لتغفر لهم جعلوا اصابعهم في اذانهم واستغشوا ثيابهم واصروا واستكبروا استكبارا ٧ ثم اني دعوتهم جهارا ٨ ثم اني اعلنت لهم واسررت لهم اسرارا ٩ فقلت استغفروا ربكم انه كان غفارا ١٠ يرسل السماء عليكم مدرارا ١١ ويمددكم باموال وبنين ويجعل لكم جنات ويجعل لكم انهارا ١٢ ما لكم لا ترجون لله وقارا ١٣ وقد خلقكم اطوارا ١٤
قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِى لَيْلًۭا وَنَهَارًۭا ٥ فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارًۭا ٦ وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًۭا ٧ ثُمَّ إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًۭا ٨ ثُمَّ إِنِّىٓ أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًۭا ٩ فَقُلْتُ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارًۭا ١٠ يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًۭا ١١ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَٰلٍۢ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّـٰتٍۢ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَـٰرًۭا ١٢ مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًۭا ١٣ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ١٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔

حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔