کمال کی طرح اس کائنات کی ہر چیز میں جمال بھی مقصود بالذات ہے بلکہ کمال اور جمال ایک ہی حقیقت کے دو نام یا دو پہلو ہیں ، کسی چیز میں کمال ہی اس کی خوبصورتی کا اعلیٰ درجہ ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن نے پہلے آسمانوں کی خوبصورتی کی طرف متوجہ کیا اور اس کے بعد کمال کی طرف۔
ولقد .................... بمصابیح (76 : 5) ” اور ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے “۔ یہ سمائے دنیا کہلاتا ہے۔ شایدہ یہ وہ بلندی ہے جو زمین کے مکان اور قرآن کے مخاطب انسانوں کے فہم کے قریب ہے۔ مصابیح اور چراغوں سے مراد ستارے اور سیارے ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں ، جن انسانوں سے قرآن مخاطب تھا وہ آسمانوں کو دیکھ کر یہی سمجھتے تھے کیونکہ ان کے پاس رصد گاہیں نہیں تھیں اور اس وقت بھی اور آج بھی کوئی آنکھوں سے آسمان کو دیکھے تو اس میں ستارے روشن چراغ نظر آتے ہیں۔
یہ منظر کس قدر خوبصورت ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں۔ اس قدر خوبصورت کہ انسان کے دل کو کھینچ لیتا ہے۔ اس منظر کے کئی رنگ ہیں۔ صبح وشام اس کا الگ الگ نظارہ ۔ طلوع اور غروب کا الگ نظارہ ہے۔ تاریک رات اور چاندنی ہے۔ گھڑی بھر میں مناظر بدلتے رہتے ہیں۔ جگہ کی تبدیلی سے مناظر بدلتے ہیں۔ زاویہ کی تبدیلی سے بدلتے ہیں لیکن جو منظر بھی سامنے آئے ذہن کو گرفت میں لے لیتا ہے۔
یہ اکیلا ستارہ جو دور افق پر چمک رہا ہے گویا وہ خوبصورت آنکھ ہے ، نہایت محبت سے پکارتی ہے۔ پھر وہ دو ستارے جو الگ نظر آتے ہیں ، یہ اژدحام سے دور محو گفتگو ہیں۔ اور وہ ستاروں کا جھرمٹ جو جگہ جگہ نظر آتا ہے وہ کائنات کے میلے کا ایک حلقہ یاراں ہے جو کبھی یہاں جمع ہوتا ہے تو کبھی وہاں !
یہ باریک چاند جو ایک رات ایک شاخ کی طرح ہوتا ہے اور ایک رات اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر معدوم ہوجاتا ہے اور دوبارہ وہ ولادت پاتا ہے۔ ہر رات کو اس کا نیا روپ ہوتا ہے۔
یہ وسیع فضائے کائنات جس کی لمبائیوں اور دوریوں تک بینائی ساتھ نہیں دیتی۔ اور خوبصورت اس قدر کہ آنکھیں دیکھتی رہ جائیں۔ یہ ہے حقیقی خوبصورتی ، جس کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا ، لیکن انسان اگر ان خوبصورتیوں کو الفاظ کا جامہ پہنانا چاہے تو ممکن نہیں۔ انسانی عبارات اس سے قاصر ہیں۔
قرآن کریم انسانوں کو اس آسمان اور اس پوری کائنات کے جمال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کیونکہ جمال کائنات کا ادراک ہی ایک ذریعہ ہے جس کی وساطت سے انسان خالق کائنات کے جمال کا تصور کرسکتا ہے۔ اور یہی ادراک انسان کو اس بلند مقام تک پہنچاتا ہے ، جس تک انسان کبھی پہنچنے کی تمنا کرسکتا ہے کیونکہ اس یونٹ تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے آگے وہ ابدی حیات پاسکتا ہے۔ اب وہ ایک خوبصورت آزاد اور لازوال دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ زندگی اس دنیا کی آلودگیوں سے پاک ہوتی ہے اور انسانی زندگی کے وہ لمحات لازوال لمحات ہوتے ہیں جن میں کوئی انسان اس کائنات کے لازوال حسن کا ادراک کرلے ، ایسے ہی حالت میں وہ ذات باری کے قریب ترہوجاتا ہے اور ذات باری کے کمالات کا تصور کرسکتا ہے۔
اور اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کے یہ خوبصورت ستارے ایک دوسرا کام بھی کرتے ہیں۔ یہ شہاب ثاقی بن کر شیطانوں پر بمباری بھی کرتے ہیں۔
وجعلنھا ................ للشیطین (65 : 5) ” اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا “۔ ہم نے ” فی ظلال القرآن “ میں یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ غیبی امور کے بارے میں بات کو اسی حد میں رکھیں جس حد تک قرآن کریم نے کہہ دی ہے۔ اس معاملے میں قرآن نے جو پہلو بتایا ہے اسی تک محدود رہیں۔ جس قدر قرآن نے کہہ دیا ہے وہ ایک مکمل بات ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ ایک مخلوق ہے ، جس کا نام شیطان اور شیاطین ہے ، قرآن میں ان شیطانوں کی بعض صفات وارد ہیں۔ ظلال القرآن میں اس موضوع پر پہلے بات ہوچکی ہے۔ اس پر مزید اضافے کی ضرورت نہیں ہے ، اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ شیطان جب عالم بالا میں جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انکو شہاب ثاقب بھگاتے ہیں ، دوسری جگہ آیا ہے۔
وحفظا ................ مارد (7).................... الا من ........ شھاب ثاقب (73 : 01) ” اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کردیا .... تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے “۔
یہ شہاب ثاقب کس طرح پیچھا کرتا ہے۔ یہ شہاب کس قدر بڑا ہے۔ اس کی شکل کیا ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں اللہ نے تفصیلات ہمیں نہیں بتائی اور کوئی دوسرا ذریعہ علم انسانوں کے پاس نہیں ہے ، جس سے کوئی بات پوچھی جاسکے۔ بس جس قدر قرآن نے کہہ دیا اس پر اکتفا کرنا چاہئے۔ اور یہی یہاں مقصود ہے۔ اگر اس سے زیادہ بتانا مقصود ہوتا تو اللہ بتا دیتا۔ اس لئے جس چیز کو اللہ نے ہمارے لئے موجب خیروبرکت نہیں سمجھا ، اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ شیاطین کا رجم بھی اسیے ہی معاملات میں سے ہے ، جس کا تفصیلی علم ہمیں نہیں دیا گیا۔ اور دنیا میں شہاب ثاقب کی سزا کے علاوہ آخرت میں ان کے لئے اور سزا ہے۔
واعتدنا ................ السعیر (86 : 5) ” اور ان شیطانوں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کررکھی ہے “۔ یہ بمباری دنیا اور آگ کا عذاب آخرت میں۔