جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔