You are reading a tafsir for the group of verses 67:16 to 67:17
اامنتم من في السماء ان يخسف بكم الارض فاذا هي تمور ١٦ ام امنتم من في السماء ان يرسل عليكم حاصبا فستعلمون كيف نذير ١٧
ءَأَمِنتُم مَّن فِى ٱلسَّمَآءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ ٱلْأَرْضَ فَإِذَا هِىَ تَمُورُ ١٦ أَمْ أَمِنتُم مَّن فِى ٱلسَّمَآءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًۭا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ ١٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ء امنتم ........................ نکیر

یہ انسان جو اس سدھائی ہوئی مطیع فرمان سواری پر سوار ہوکر مزے لوٹ رہا ہے اور اس سواری کے اندر ہی اپنا رزق دودھ کی شکل میں حاصل کرتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ یہ مطیع فرمان سواری ایک دن بگڑ جائے گی اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو یہ ایسی نہ رہے گی۔ یہ ذرا سا جھٹکا ہی دے گی کہ اس کے اوپر کی تمام چیزیں ادھر ادھر بکھر جائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح لرز جائیں گے اور یہ اس قدر تیز جھکولے کھانے لگے گی اور ایسے حالات بڑے زلزلوں اور بڑی بڑی آتش نشانیوں کے وقت بھی ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رکی ہوئی اور تابع زمین کے اندر کس قدر سرکشی ہے جو ناقابل کنٹرول ہے۔ اس کی زمام تو اللہ نے پکڑ رکھی ہے۔ اس لئے یہ جھٹکے نہیں کھاتی ہے اور جب یہ چند سیکنڈ یا ایک منٹ کے لئے بھی جھٹکے دے تو زمین کے اوپر انسانوں نے جس قدر پختہ سے پختہ قلعے تعمیر کیے ہوئے ہیں ، سب مسمار ہوجاتے ہیں۔ اور یہ بستیوں کی بستیاں اس کے پیٹ کے اندر دھنس جاتی ہیں اور جب انسان اس کے اندر جارہے ہوں تو کوئی چیز بھی انہیں بچا نہ سکے۔

زلزلوں ، آتش فشانی اور دھنسنے کے وقت یہ فرعون انسان پھر چوہوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ جس طرح چوہے پنجرے میں بند ہوں اور وہ نکلنے کے لئے ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ ایک منٹ پہلے تو یہ غافل ، مست ، سرکش اور اس ذات عالی مقام سے غافل تھے جس نے اس سرکش سواری کی زمان کو تھام رکھا تھا اور اب ہر طرف بھگڈر ہے۔

انسان اس دنیا میں ایسی آندھیاں بھی دیکھتے ہیں جو بادوباراں کے ساتھ پتھر بھی برسارہی ہوتی ہیں اور جس جس بستی سے گزرتی ہیں ، درختوں ، خیموں اور مکانات کو اڑاتی چلی جاتی ہیں۔ جنگلات کو جلا کر بھسم کردیتی ہیں اور لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ بےبس دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا علم اور ان کی قوت اور ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ یہ طوفان ہزاروں میل کی رفتار سے چلتے ہیں اور پتھر اڑاتے اور سمندروں کو خشکیوں پر چڑھاتے چلے جاتے ہیں تو انسان ان کے سامنے ایک مچھر اور چیونٹی کے برابر رہ جاتا ہے ، لیکن یہ اللہ کی قوت ہی ہوتی ہے جو اپنی افواج کو روکتی ہے اور پھر یہ زمین اور یہ سواری قرار پکڑتی ہے۔

قرآن کریم انسانوں کو یاد دلاتا ہے کہ یہ سواری جو تمہارے لئے سدھائی ہے اور بڑی سلامتی سے چل رہی ہے ، تم کہیں دھوکہ نہ کھا جاﺅ، یہ تو خالق کائنات کے کنٹرول میں ہے اور اسی نے اسے تمہارے لئے سدھایا ہے ، اس کی سرکشیاں جب شروع ہوں گی تو تم پھر اپنے آپ کو کسی صورت میں بچا نہ سکو گے۔ یہ زمین جھکولے کھاسکتی ہے اور تیز رفتاری اختیار کرسکتی ہے۔ یہ اپنے اندر سے گرم گرم لاوا بھی اگل سکتی ہے ، یہ تمہیں زمین کے اندر بھی دھنسا سکتی ہے ، پتھروں کی بارش بھی ہوسکتی ہے۔ کوئی انسانی طاقت اس کو نہیں روک سکتی۔ اور نہ کوئی انسانی طاقت اسے تباہی و بربادی سے دور کرسکتی ہے۔ اللہ اس قدر ڈراتا ہے کہ دل دہل جاتے ہیں اور اعصاب شل ہوجاتے ہیں اور اعضا تھرتھرانے لگتے ہیں۔

فستعلمون ................ نذیر (76 : 71) ” پھر تمہیں معلوم ہوجائے کہ میری تنبیہہ کیسی ہوتی ہے “۔ اب ان کے سامنے تاریخی واقعات کی طرف ایک مجمل اشارہ پیش کیا جاتا ہے کہ ازمنہ ماضیہ میں بعض منکرین کا عبرتناک انجام تمہارے سامنے ہے۔