You are reading a tafsir for the group of verses 67:9 to 67:10
قالوا بلى قد جاءنا نذير فكذبنا وقلنا ما نزل الله من شيء ان انتم الا في ضلال كبير ٩ وقالوا لو كنا نسمع او نعقل ما كنا في اصحاب السعير ١٠
قَالُوا۟ بَلَىٰ قَدْ جَآءَنَا نَذِيرٌۭ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍۢ كَبِيرٍۢ ٩ وَقَالُوا۟ لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِىٓ أَصْحَـٰبِ ٱلسَّعِيرِ ١٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قالو .................... السعیر (76 : 11) ” وہ جواب دیں گے ” ہاں ! خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیات تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو “۔ اور کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے “۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔

جو سنتا ہے اور عقل سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں ڈالتا۔ اور اس طرح انکار نہیں کرتا جو ان بدبختوں نے کیا۔ اور وہ رسولان برحق کو جھٹلانے کی جسارت نہیں کرتا اور نہ اس قدر بھونڈے انداز کی ساتھ ان پر گمراہی کا الزام لگاتا ہے ، بغیر کسی معقول وجہ کے ، الٹا یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا ، تم جھوٹ بول رہے ہو ، جیسا کہ گویا وہ ابھی اللہ کے پاس سے آیا ہے۔