You are reading a tafsir for the group of verses 66:1 to 66:2
يا ايها النبي لم تحرم ما احل الله لك تبتغي مرضات ازواجك والله غفور رحيم ١ قد فرض الله لكم تحلة ايمانكم والله مولاكم وهو العليم الحكيم ٢
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكَ ۖ تَبْتَغِى مَرْضَاتَ أَزْوَٰجِكَ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ١ قَدْ فَرَضَ ٱللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَـٰنِكُمْ ۚ وَٱللَّهُ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

بیویوں کے پیدا کردہ بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں قسم کھالی کہ میں شہد نہیں کھاؤں گا۔ مگر پیغمبر کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ بن جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے حکم دیا کہ آپ شرعی طریقہ کے مطابق کفارہ ادا کر کے اپنی قسم کو توڑ دیں۔ اور شہد نہ کھانے کے عہد سے اپنے آپ کو آزادکرلیں ۔تا کہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آپ کے امتی اس کو تقوی کا معیار سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز کرنے لگیں۔