لن تنفعكم ارحامكم ولا اولادكم يوم القيامة يفصل بينكم والله بما تعملون بصير ٣
لَن تَنفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُكُمْ ۚ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ ٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

لن تنفعکم .................... بصیر (06 : 3) ” قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد۔ اس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے “۔

مومن نیکی کرتا ہے اور آخرت کام اجر چاہتا ہے۔ وہ دنیا میں بوتا ہے اور آخرت میں کاٹے گا۔ اور اس پر یہ بات اثرانداز ہوتی ہے کہ جب آخرت میں ایمان اور عقیدے کا تعلق نہ ہوگا تو رشتہ داری کا تعلق بھی کٹ جائے گا ، تو اس طرح اس دنیا کی مختصر زندگی میں اس کے دل سے اس رشتہ داری اور قرابت داری کے تعلقات کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ اور وہ ایسے تعلق کو اہمیت دینے لگتا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں مفیدہوتا ہے اور قائم رہتا ہے اور وہ نظریاتی اور ایمانی تعلق ہوتا ہے۔

لن تنفعکم .................... اولادکم (0 : 3) ” قیامت کے دن تمہاری رشتہ داریاں اور اولاد تمہارے کسی کام نہ آئے گی “۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی طرف تم لپکتے ہو اور تمہارے دل ان سے متعلق ہیں اور یہ تعلقات تمہیں مجبور کرتے ہیں کہ تم اپنے دشمنوں کے ساتھ دوستی کرو ، تاکہ تم ان تعلقات کو بچا سکو۔ جب کہ حضرت حاطب نے اپنی اولاد اور مال کی خاطر یہ کیا۔ جس طرحدوسروں کے دل اپنی اولاد اور مال کے لئے جوش مارتے ہیں ، تو یہ چیزیں بھی تمہیں کوئی نفع نہ دیں گی۔ قیامت کے دن تو یفصل بینکم ” اس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی کردے گا “۔ کیونکہ رشتہ داری اور قرابت دار کی رسی اس دن ٹوٹ جائے گی ، اس دن صرف اللہ کی رسی کام کرے گی۔

واللہ ............ بصیر (06 : 3) ” اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے “۔ وہ ظاہر ، باطن اور نیت تک سے واقف ہے۔

اب تیسرا پیراگراف آتا ہے۔ اس میں امت مسلمہ کو اس امت کے سرچشمے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے جایا جاتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم سے ادھر ایک ہی قافلہ ہے ، اور ایک ہی امت ہے ، تاریخ کی طویل وادیوں میں یہ چلا آرہا ہے۔ اس قافلے کا سامان ، سامان ایمان ہے۔ یہ قافلہ ہر قسم کے تعلقات سے برات کرتا ہے ، ماسوائے تعلقات عقیدہ کے۔ یہی امت ہے جو حضرت ابراہیم سے چلی۔ یہ ابو الانبیاء تھے اور دین حنیف کے داعی۔ وہ قابل تقلید ہیں ، نہ صرف عقیدے میں ، بلکہ سیرت اور انداز تبلیغ میں بھی۔ ان کو بھی یہی قرابت داری اور رشتہ داری کا مسئلہ درپیش تھا۔ چناچہ حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھی مومنین ان رشتہ داریوں اور علاقوں کو چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے صرف اپنا عقیدہ اپنا لیا۔