اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ یہ عورتیں جو مہاجر ہوگئی ہیں ان سے کن باتوں پر بیعت لی جائے گی۔ یہ عورتیں یا وہ عورتیں جو اسلام میں داخل ہونا چاہتی ہیں ان کی بیعت یہ ہوگی :
یایھا النبی ............................ غفور رحیم (06 : 21) ” اے نبی جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کریں گی ، چوری نہ کریں گی ، زنانہ کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی ، اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی ، اور کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی ، تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو ، یقینا اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے “۔
یہ باتیں جن پر عورتوں سے بعیت لی گئی ہے ، یہ اسلامی نظریہ حیات کے بنیادی عناصر ہیں اور اجتماعی زندگی کے بھی یہ اساسی اصول ہیں۔
1۔ یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ مطلقاً کسی کو شریک نہ کریں گی۔ 2۔ سرقہ نہ کریں گی۔ 3۔ زنا سے اجتناب کریں گی۔ 4۔ اولاد کو قتل نہ کریں گی۔
جاہلیت میں رواج تھا کہ عورتوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ نیز اس میں جنین کو قتل کرنا بھی شامل ہے۔ جس کا سبب کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جنین کی امین ہیں۔
ولا یاتین ................ وارجلھن (06 : 21) ” اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی “۔ اس کا مفہوم حضرت ابن عباس نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی اور کی اولاد کو ان خاوندوں کے ساتھ نہ ملائیں گی۔ یہی رائے مقاتل کی ہے۔
یہ تحفظزنا سے ارتکاب سے بچنے کی بیعت کے بعد ایک لازمی ہدایت ہے۔ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ عورتیں کئی مردوں سے تعلقات زناشوئی قائم کرتی تھیں۔ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تھا وہ اسے اس شخص کو قرار دے دیتیں جس کے ساتھ وہ مشابہت رکھتا۔ بعض اوقات یہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ بچے کا الحاق کر ادیتیں حالانکہ ان کو اس کا باپ معلوم ہوتا تھا۔
لیکن آیت کے عمومی الفاظ میں تمام ایسے حالات آتے ہیں جن میں بہتان تراشی ہوتی ہو۔ ابن عباس اور مقاتل نے اسے جو مخصوص کیا ہے تو اس لئے کہ اس وقت ایسے حالات موجود تھے جو حرامت زنا کے حکم سے ختم ہورہے تھے لیکن موجود حاملہ عورتوں کو تو بچوں کے الحاق کا فیصلہ بہرحال کرنا ہی تھا۔
ولا یعصینک ................ معروف (06 : 21) ” اور کسی معرف امر میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی “۔ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے۔ ہر اس معاملے میں جو آپ ان سے کہیں اور ظاہر ہے کہ حضور تو معروف کا حکم ہی دیں گے۔ لیکن یہاں معروف کے لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ ایک دستوری دفعہ ہے ۔ اسلامی دستور میں یہ بنیادی قاعدہ ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت کے دائرے کے اندر محدود ہے۔ صرف ان کاموں میں حکمرانوں کی اطاعت لازمی ہے جو شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوں۔ اسلام میں مطلق اطاعت کا کوئی اصول نہیں ہے۔ اسلامی دستور کے مطابق قانون سازی اور حکمرانی کے اختیارات کا سرچشمہ اسلامی شریعت ہے۔ امام وقت کا ارادہ نہیں ہے نہ قوم کا ارادہ نہ اکثریتی یا اجتماعی کسی اصول کو قانون کا درجہ دے سکتا ہے جو شریعت کے خلاف ہو۔ لہٰذا قوم اور قوم کا امام دونوں اسلامی شریعت کے پابند ہیں۔
جب ان عورتوں نے بیعت کرلی تو تب وہ مومنات ہوں گی۔ اور تب ان کے حق میں رسول اللہ ﷺ مغفرت کی دعا کریں گے کہ اللہ ان کے سابقہ گناہوں کو معاف کرے۔
ان اللہ ............ رحیم (06 : 21) ” بیشک اللہ درگزرنے والا اور رحیم ہے “۔ وہ کوتاہیوں کو معاف کرنے والا ہے۔