ان الذين امنوا والذين هادوا والصابيون والنصارى من امن بالله واليوم الاخر وعمل صالحا فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون ٦٩
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلصَّـٰبِـُٔونَ وَٱلنَّصَـٰرَىٰ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٦٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 69 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالصّٰبِءُوْنَ وَالنَّصٰرٰی اس آیت میں تقریباً وہی مضمون ہے جو اس سے پہلے سورة البقرۃ کے آٹھویں رکوع آیت 62 میں آچکا ہے ‘ جس سے بعض لوگوں کو دھوکا ہوتا ہے کہ شاید نجات کے لیے ایمان بالرسالت کی ضرورت نہیں ہے ‘ حالانکہ سورة النساء آیات 50 ‘ 51 اور 52 میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مابین تفریق کرنے والوں کے لیے بہت واضح انداز میں فرمایا گیا ہے : اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا وہی لوگ تو پکے کافر ہیں۔ دوسری بات یہاں ذہن میں یہ رکھیے کہ ان تمام سورتوں میں محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت قدم قدم پر ہے ‘ بار بار ہے ‘ لہٰذا اس سے استغناء کا کوئی جواز رہتا ہی نہیں ‘ سوائے اس کے کہ کسی کی نیت میں فساد ہو اور دل میں کجی پیدا ہوچکی ہو۔ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وعَمِلَ صَالِحًا فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یہاں وہ تمام لوگ مراد ہیں جو اپنے اپنے دور میں اللہ اور آخرت پر ایمان و یقین رکھتے تھے اور اپنے وقت کے نبی اور گزشتہ انبیاء پر ایمان رکھتے تھے۔ جیسے حضرت مسیح علیہ السلام سے ماقبل زمانہ میں یہودی تھے ‘ جو کتاب اللہ تورات پر یقین رکھتے تھے ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مانتے تھے ‘ دوسرے نبیوں کو مانتے تھے اور نیک عمل کرتے تھے۔ لیکن عمل کے معاملے میں اصل چیز اور اصل بنیاد اللہ کی رضا جوئی اور آخرت کی جزا طلبی ہے ‘ جس سے کوئی عمل ‘ عمل صالح بنتا ہے۔