يسالونك ماذا احل لهم قل احل لكم الطيبات وما علمتم من الجوارح مكلبين تعلمونهن مما علمكم الله فكلوا مما امسكن عليكم واذكروا اسم الله عليه واتقوا الله ان الله سريع الحساب ٤ اليوم احل لكم الطيبات وطعام الذين اوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم والمحصنات من المومنات والمحصنات من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم اذا اتيتموهن اجورهن محصنين غير مسافحين ولا متخذي اخدان ومن يكفر بالايمان فقد حبط عمله وهو في الاخرة من الخاسرين ٥
يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ ٱلْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَكُلُوا۟ مِمَّآ أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ٤ ٱلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتُ ۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ حِلٌّۭ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّۭ لَّهُمْ ۖ وَٱلْمُحْصَنَـٰتُ مِنَ ٱلْمُؤْمِنَـٰتِ وَٱلْمُحْصَنَـٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَـٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِىٓ أَخْدَانٍۢ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِٱلْإِيمَـٰنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ ٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
وہ تمام چیزیں جن کو فطرت کی نگاہ پاک اور ستھرا محسوس کرتی ہے۔ اور وہ تمام جانور جو اپنی سرشت کے لحاظ سے انسان کی سرشت سے مناسبت رکھتے ہیں انسان کے لیے حلال ہیں۔ البتہ یہ شرط ہے کہ خارجی سبب سے ان کے اندر کوئی شرعی یا طبی خرابي نہ پیدا ہوگئي ہو۔ تاہم اس اصول کو انسان محض اپنی عقل سے پوری طرح متعین نہیں کرسکتا۔ اس لیے ا س کو تعین کے ساتھ بھی بیان کردیا گیا۔ سدھائے ہوئے جانور کا شکار بھی اسی لیے حلال ہے کہ وہ شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑ کر رکھتا ہے۔ گویا اس نے آدمی کی خو سیکھ لی۔ ایسا جانور گویا شکار کے معاملے میں خود آدمی کا قائم مقام بن گیا۔
حلال وحرام کا قانون خواہ کتنی هي تفصیل کے ساتھ بتا دیا جائے بالآخر آدمی کا اپنا ارادہ ہی ہے جو اس کو کسی چیز سے روکتا ہے اور کسی چیز کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کے اوپر اصل نگراں قانون کی دفعات نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اگر آدمی خود نہ چاہے تو قانون کو مانتے ہوئے وہ اس سے فرار کی راہیں تلاش کرلے گا۔ یہ صرف اللہ کا خوف ہے جو آدمی کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ ملحوظ رکھے۔ اسی لیے حرام وحلال کا قانون بتاتے ہوئے کہاگیا اللہ سے ڈرو، اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
مسلمان عورت کے لیے کسی حال میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم مرد سے نکاح کرلے۔ مگر مسلمان مردوں کو مخصوص شرائط کے تحت اجازت دی گئی ہے کہ وہ اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں۔ اس گنجائش کی حکمت یہ ہے کہ عورت فطرۃً تاثر پذیر مزاج رکھتی ہے۔ اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ عملی زندگی میں آنے کے بعد اپنے مسلم شوہر اور مسلم معاشرہ کا اثر قبول کرلے اور اس طرح نکاح اس کے لیے اسلام میں داخلہ کا ذریعہ بن جائے۔
’’جو شخص ایمان سے انکار کرے تو اس کا عمل ضائع ہوگیا‘‘، یعنی ایمان کے بغیر عمل کی کوئی حقیقت نہیں۔ عمل وہی ہے جو خالص اللہ کے لیے کیا جائے۔ جو عمل اللہ کے لیے نہ ہو وہ خود اپنے لیے ہوتا ہے۔ پھر اپنی خاطر كيے ہوئے عمل کی قیمت اللہ کیوں دے گا۔