(آیت) ” الْیَوْمَ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلُّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ إِذَا آتَیْْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْْرَ مُسَافِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْ أَخْدَانٍ ۔
” آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں ، اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے ۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ‘ بشرطیکہ تم انکے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ بنو ‘ نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو)
اب پھر وہ چیزیں گنوائی جاتی ہیں جو حلال ہیں ۔۔۔۔ (آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں) اس سے اس مفہوم کی طرف تاکیدی اشارہ ملتا ہے جس کی طرف ہم نے قارئین کو اوپر متوجہ کیا تھا ۔ اب طیبات کی فہرست میں کچھ مزید چیزوں کو شامل کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بھی طیب ہیں ۔
یہاں اسلام کی رواداری کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے ۔ اسلامی معاشرے میں غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کی ایک خصوصی صورت بتائی جاتی ہے ۔ ایسے لوگ جو دارالاسلام میں رہتے ہیں اور اہل الذمہ ہیں اور مملکت اسلامیہ کے شہری ہیں اور ہیں اہل کتاب میں سے ۔
اسلام اہل کتاب غیر مسلموں کو صرف مذہبی آزادی دے کر معاشرے کے اندر الگ تھلک نہیں کردیتا نہ انہیں اسلامی معاشرے میں قابل نفرت حد تک دور پھینک دیتا ہے ۔ وہ انہیں اجتماعی شرکت اور محبت کا احساس بھی دیتا ہے اور انہیں اسلامی معاشرے میں ضم ہونے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے ۔ اسلام ان کا کھانا اہل اسلام کے لئے حلال قرار دیتا ہے ۔ اہل اسلام کے لئے یہ بھی جائز قرار دیتا ہے کہ وہ اپنا کھانا بھی اہل کتاب کو پیش کرسکتے ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے ملاقات کرسکیں ‘ ایک دوسرے کے مہمان بن سکیں اور باہم مل کر کھا پی سکیں اور معاشرے کے اندر محبت اور رواداری کی فضا وجود میں آئے ۔ اسی طرح اسلام اہل کتاب میں سے پاک دامن عورتوں کے ساتھ اہل اسلام کو نکاح کی بھی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ وہ محصنات ہوں یعنی پاکدامن ہوں ۔ یہ مسلمانوں کے لئے جائز ہیں ، یہاں مسلمان پاک دامن عورتوں کے ساتھ اہل کتاب پاکدامن عورتوں کا ذکر یکجا کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسی رواداری ہے جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب کے ہاں شاذو نادر ہی ملتی ہوگی ۔ اس لئے کہ عیسائیوں میں سے بھی کیتھولک فرقہ آرتھوڈکس کے ساتھ نکاح کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ اسی طرح پروٹسٹنٹ اور مارونیہ کے ساتھ بھی وہ نکاح جائز نہیں سمجھتے اور اگر عیسائی معاشرے میں کوئی ایسے نکاح کرتا ہے تو عیسائی آرتھوڈکس اسے صحیح نہیں بلکہ بدعمل سمجھتے ہیں ۔
معلوم ہوا کہ یہ صرف اسلام ہی ہے جو ایک عالمی معاشرہ قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ اسلام نے اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان مکمل علیحدگی قائم نہیں کی نہ مختلف عاقد رکھنے والوں کے درمیاں مستقل پردے ڈالے ۔ وہ اہل عقائد جو اسلامی مملکت کے شہری ہوتے ہیں حسن معاشرت کے نقطہ نظر سے وہ مسلمانوں کے ساتھ اور مسلمان ان کے ساتھ رابطہ رکھ سکتے ہیں ۔ (رہی یہ بات کہ ان لوگوں کے ساتھ خفیہ دوستیاں قائم کرنا جائز ہیں یہ نہیں تو اس کا حکم آگے آرہا ہے) رہی یہ شرط کہ کتابیات محصنہ ہوں تو یہ شرط مومنات کے لئے بھی ہیں کہ ہو محصنہ ہوں۔
(آیت) ” اذا اتیتموھن اجورھن محصنین غیر مسفحین ولا متخذی اخدان “ (5 : 5)
” بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنایاں کرو)
وہ اس طرح کہ انہیں مہر ادا کرو ‘ ان کے ساتھ شرعی نکاح کرو ‘ جس میں مرد عورت کو حصار نکاح میں لاتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ یہ نہ ہو کہ اجر دے کہ تم ان کے ساتھ شہوت رانی کرو یا چھوری چھپے دوستیاں کرو ۔ السفاح کا مفہوم یہ ہے کہ عورت کسی بھی مرد کے ساتھ معاہدہ کرے اور المخادنہ کا مفہوم یہ ہے کہ عورت بغیر شرعی نکاح کے کسی ایک شخص کو دوست بنا لے ۔ یہ دونوں صورتیں عرب میں دور جاہلیت میں مشہور اور متعارف تھیں اور جاہلی معاشرہ ان دونوں قسم کے تعلقات کو تسلیم کرتا تھا ۔ اسلام آیا اور اس نے معاشرے کو ان گندگیوں سے پاک وصاف کردیا اور اسے ان گراٹوں سے اٹھا کر سربلند کردیا ۔
(آیت) ” ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ وھو فی الاخرۃ من الخسرین “ (5 : 5) (اور اگر کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامہ زندگی ضائع ہوجائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا 9
یہ تمام قانون سازی ایمان کے ساتھ منسلک ہے ۔ اس کا نافذ کرنا اسی طرح اہم ہے جس طرح ایمان لانا اہم ہے یہ دلیل ایمان ہے ‘ اس لئے یہ جو شخص ان احکام کے نفاذ سے روگردانی کرتا ہے وہ گویا ایمان کا انکار کرتا ہے ایمان کو چھپاتا ہے ایمان پر پردہ ڈالتا ہے ۔ اس طرح جو شخص ایمان کا انکار کرے اس کا عمل باطل ہوجاتا ہے اور وہ مسترد کردیا جاتا ہے ورنہ وہ شخص اس عمل پر ہمیشہ کے لئے عمل پیرا ہوتا ہے ۔ الحبوط عرب میں کسی مویشی کے پھول جانے کو کہتے ہیں ‘ جب وہ کوئی زہریلی گھاس چر لیتا ہے اور اس سے مر جاتا ہے یہ عمل باطل کی اچھی تصویر کشی ہے کہ بظاہر وہ پھول جاتا ہے لیکن درحقیقت اس کا جسم زہر آلود ہوگیا ہوتا ہے اور وہ مرجاتا ہے ۔ اسی طرح عمل باطل بھی زیادہ نظر آتا ہے لیکن اس کا اثر نہیں ہوتا اور دنیا میں بے اور بےکار ہونے کے بعد آخرت میں غیر نافع اور سخت خسارے کا سودا ہوگا ۔
یہ سخت ‘ شدید اور خوفناک اختتامی ڈراوا ایک شرعی حکم کے بعد آتا ہے ۔ یہ شرعی حکم طعام ونکاح کے حوالے سے حلال و حرام کی بابت وارد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام حیات کے ہر جزو پر عمل کرنا ضروری ہے اور یہ کہ اسلامی نظام کا ہر جزئیہ بھی دین ہی ہے اور اسی لئے اس کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہے شریعت کی مخالفت میں اگر کوئی تھوڑا ہو یا زیادہ اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔
پاکیزہ کھانوں اور پاکیزہ بیویوں کے بیان کے ضمن میں نماز کا حکم آجاتا ہے اور نماز کے لئے تیاری اور پاکی کے احکام بتائے جا رہے ہیں :
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو چاہئے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھولو سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہوجاؤ ۔ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو ‘ اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو ‘ بس اس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیرلیا کرو ، اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو)
رزق حلال اور پاکیزہ عورتوں کے احکام کے متصلا بعد نماز اور نماز کے لئے طہارت کا بیان آتا ہے ۔ مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنے والوں کے ساتھ معاملہ کرنے ‘ شکار کرنے احکام کے ساتھ نماز کے لئے طہارت کے احکام کا ذکر محض اتفاقا نہیں کیا گیا ہے کہ ایک بیان ختم ہوا تو دوسرا شروع کردیا گیا اور نہ یہ سیاق کلام اور مقاصد کلام کے ساتھ غیر مناسب ہے بلکہ یہ ذکر بھی اپنے صحیح مقام پر ہے اور قرآن کریم کی حکمت بیان کے عین مطابق ہے ۔
سب سے پہلے تو یہ پاکیزہ چیزوں میں سے ایک نئے رنگ کی پاکیزگی ہے ‘ روحانی پاکیزگی یعنی پاکیزہ طعام و شراب اور پاکیزہ عورتوں کے ساتھ ایک پاکیزہ چیز ‘ روح کی پاکیزگی کے سامان اور انتظام کا بھی یہاں ذکر کردیا گیا ۔ یہ وہ رنگ ہے جس میں قلب مومن وہ کچھ پاتا ہے جو کسی دوسرے سازو سامان میں نہیں پاتا ، یہ وہ سازوسامان ہے جو ذریعہ ملاقات محبوب ہے ، پاکیزگی ‘ طہارت اور عاجزی کی فضا میں جب دنیا کے سامان طعام و شراب کا بیان ختم ہوا اور پاکیزہ ازواج کا ذکر بھی ہوگیا تو پھر روحانی پاکیزگی اور طہارت کا ذکر ہوا جو وضو اور نماز کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ۔ انسان کی زندگی میں پاکیزگی کے تمام رنگ جمع ہوگئے جن کے ساتھ انسان کی تصویر مکمل ہوتی ہے ۔
اس سے یہ بتلانا بھی پیش نظر ہے کہ طہارت اور نماز کے احکام بھی اسی طرح دین کا حصہ ہیں جس طرح کھانے کے احکام اور نکاح کے احکام ‘ شکار کے احکام اور حرام اور حلال کے احکام اور جس طرح امن اور جنگ میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے احکام ہیں یا جس طرح اس پوری سورة میں مذکور دوسرے احکام ہیں ۔ یہ سب احکام اللہ کی عبادت اطاعت اور بندگی ہیں ۔ یہ سب دین کا حصہ ہیں ۔ اسلام میں ان احکام کے اندر کوئی ایسا فرق نہیں ہے جو فقہاء نے بعد کے ادوار میں اپنی اصطلاحات کے اندر قائم کردیا ہو ۔ یعنی یہ ہیں احکام عبادات اور یہ ہیں احکام معاملات ۔
یہ اصطلاحات جو فقہاء نے محض تصنیفی تقاضوں کے تحت قائم کئے تھے اور کتابوں کے ابواب وفصول کے تعین کے لئے کئے تھے ‘ ان کا اصل نظام زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اور نہ اصل شریعت کے اندر اس تفریق کے لئے کوئی جواز ہے ۔ اسلامی نظام میں عبادات اور معاملات دونوں موجود ہیں اور ان دونوں کا حکم بھی ایک ہے۔ یعنی یہ دونوں امور اسلامی نظام حیات ‘ شریعت اور دین کا حصہ ہیں ۔ اطاعت اور اتباع میں دونوں کے درمیان شریعت نے کوئی فرق و امتیاز نہیں کیا ہے ۔ بلکہ شریعت کا قیام ہی اس وقت تک ممکن نہیں ‘ جب تک ان دونوں حصوں میں پر عمل درآمد نہ کیا جائے اور دین اسلام اس وقت تک درست طور پر قائم نہیں ہوسکتا جب تک جماعت مسلمہ کی زندگی میں یہ دونوں پہلو برابر کے طور پر نافذ نہ ہوجائیں ۔
یہ سب معاہدے ہیں جنکے بارے میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ انہیں پورا کیا جائے ۔ یہ تمام عبادات ہیں جن پر ایک مسلمان رضائے الہی کے لئے عمل کرے گا ، یہ تمام امور اسلام کا حصہ ہیں اور ہر ایک پر مسلمان عمل پیرا ہوگا تاکہ وہ اپنی بندگی کا اقرار کرے ۔
اسلام میں عبادات اور معاملات کوئی الگ الگ حیثیت نہیں رکھتے ۔ ان کا بیان صرف فقہی تصنیفات میں الگ الگ کیا گیا ہے ۔ معاملات اور عبادات دونوں ہی درحقیقت عبادات ہیں ۔ یہ سب اللہ کی جانب سے فرائض ہیں اور ہم نے اللہ کے ساتھ یہ عہد (عقود) کیا ہے کہ ہم ان پر عمل کریں گے ، ان میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ایمان کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔
یہ ہے وہ اہم نقطہ نظر جس کے طرف قرآن یہاں اشارہ کر رہا ہے ۔ وہ پے درپے مختلف قسم کے احکام کو اس سورة میں بیان کر رہا ہے جو سب کے سب دین کا حصہ ہیں ۔