You are reading a tafsir for the group of verses 5:44 to 5:47
انا انزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين اسلموا للذين هادوا والربانيون والاحبار بما استحفظوا من كتاب الله وكانوا عليه شهداء فلا تخشوا الناس واخشون ولا تشتروا باياتي ثمنا قليلا ومن لم يحكم بما انزل الله فاولايك هم الكافرون ٤٤ وكتبنا عليهم فيها ان النفس بالنفس والعين بالعين والانف بالانف والاذن بالاذن والسن بالسن والجروح قصاص فمن تصدق به فهو كفارة له ومن لم يحكم بما انزل الله فاولايك هم الظالمون ٤٥ وقفينا على اثارهم بعيسى ابن مريم مصدقا لما بين يديه من التوراة واتيناه الانجيل فيه هدى ونور ومصدقا لما بين يديه من التوراة وهدى وموعظة للمتقين ٤٦ وليحكم اهل الانجيل بما انزل الله فيه ومن لم يحكم بما انزل الله فاولايك هم الفاسقون ٤٧
إِنَّآ أَنزَلْنَا ٱلتَّوْرَىٰةَ فِيهَا هُدًۭى وَنُورٌۭ ۚ يَحْكُمُ بِهَا ٱلنَّبِيُّونَ ٱلَّذِينَ أَسْلَمُوا۟ لِلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلرَّبَّـٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ بِمَا ٱسْتُحْفِظُوا۟ مِن كِتَـٰبِ ٱللَّهِ وَكَانُوا۟ عَلَيْهِ شُهَدَآءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا۟ ٱلنَّاسَ وَٱخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِى ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ ٤٤ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَآ أَنَّ ٱلنَّفْسَ بِٱلنَّفْسِ وَٱلْعَيْنَ بِٱلْعَيْنِ وَٱلْأَنفَ بِٱلْأَنفِ وَٱلْأُذُنَ بِٱلْأُذُنِ وَٱلسِّنَّ بِٱلسِّنِّ وَٱلْجُرُوحَ قِصَاصٌۭ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِۦ فَهُوَ كَفَّارَةٌۭ لَّهُۥ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٤٥ وَقَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِهِم بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ ۖ وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًۭى وَنُورٌۭ وَمُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَهُدًۭى وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ ٤٦ وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ٤٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

خدا کی کتاب اس لیے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی ابدی فلاح کی راہ دکھائے۔ خواہش پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ان کو حق پرستی کی روشنی میں لائے۔ جو خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ خدا کی کتاب کو خدا اور بندے کے درمیان مقدس عہد سمجھتے ہیں جس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی جائز نہ ہو۔ وہ اس کی تعمیل اس طرح کرتے ہیں جس طرح کسی کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اس کی ادائیگی کرے۔ اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے معاملات میں اسی کی ہدایت پر چلا جائے اور باہمی نزاعات میں اسی کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ خدا کی کتاب کو اگریہ حاکمانہ حیثیت نہ دی جائے بلکہ اپنے معاملات ونزاعات کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے تابع رکھا جائے تو یہ خدا کی کتاب سے انکار کے ہم معنی ہوگا، خواہ تبرک کے طور پر اس کا کتنا ہی زیادہ ظاہری احترام کیا جاتا ہو۔ جو لوگ اپنے كومسلم کہیں مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ اختیار اور آزادی رکھتے ہوئے بھی اپنے معاملات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق نہ کریں بلکہ خواہشوں کی شریعت پر چلیں، وہ اللہ کی نظر میں کافر اور ظالم اور فاسق ہیں۔ وہ خدا کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرنے والے ہیں، وہ حق کے تلف کرنے والے ہیں، وہ اطاعت خداوندی کے عہد سے نکل جانے والے ہیں۔ حکم شریعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت خدا کے یہاں باقی نہیں رہتی۔

قصاص کے سلسلے میں شریعت کا تقاضا ہے کہ کسی کی حیثیت کی پروا کیے بغیر اس کا نفاذ کیاجائے۔ تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔