للفقراء المهاجرين الذين اخرجوا من ديارهم واموالهم يبتغون فضلا من الله ورضوانا وينصرون الله ورسوله اولايك هم الصادقون ٨
لِلْفُقَرَآءِ ٱلْمُهَـٰجِرِينَ ٱلَّذِينَ أُخْرِجُوا۟ مِن دِيَـٰرِهِمْ وَأَمْوَٰلِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًۭا وَيَنصُرُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّـٰدِقُونَ ٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 8{ لِلْفُقَرَآئِ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ } ”یہ خاص طور پر اُن تنگ دست مہاجرین کے لیے ہے جو نکال دیے گئے اپنے گھروں اور اپنے اموال سے“ { یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ ط } ”وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کر رہے ہیں۔“ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ۔ } ”یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔“ یہاں سورة الحدید کی آیت 25 کے یہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَیْبِط } یعنی حق و باطل کی کشمکش سے دراصل اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے ظاہر کردینا چاہتا ہے کہ کون لوگ غیب میں ہونے کے باوجود اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کے لیے جاں بکف ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ میں نہ صرف مال فے کی تقسیم کے حوالے سے فقراء مہاجرین کی ترجیح واضح کردی گئی بلکہ ان کی بےلوث قربانیوں کی تصدیق و توثیق بھی فرما دی گئی کہ یہ لوگ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر گھروں سے نکلے ہیں۔ اب چونکہ ان کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی کچھ نہیں تو مال فے کی تقسیم میں ان کے لیے خصوصی حصہ رکھا جائے گا۔