کائنات اپنے انتہائی پیچیدہ نظام کے ساتھ یہ گواہی دے رہی ہے کہ وہ ہر آن کسی بالاتر طاقت کی نگرانی میں ہے۔ کائنات میں نگرانی کی شہادت یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان بھی مسلسل طور پر اپنے خالق کی نگرانی میں ہے۔ ایسی حالت میں حق کے خلاف خفیہ سرگرمیاں دکھانا صرف ایسے اندھے لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی صفتوں کو نہ براہ راست طور پر ملفوظ قرآن میں پڑھ سکیں اور نہ بالواسطہ طور پر غیر ملفوظ کائنات میں۔
بعض یہود اور منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آتے تو وہ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) کہنے کے بجائے السام علیکم (آپ پر موت آئے) کہتے۔ یہ ہمیشہ سے سطحی انسانوں کا طریقہ رہا ہے۔ سطحی لوگ ایک سچے انسان کو بے قدر کرکے اپنے ذہن میں خوش ہوتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ساری پھیلی ہوئی خدائی عین اس وقت بھی اس سچے انسان کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے جب کہ اپنے محدود ذہن کے مطابق وہ اس کی تحقیر و تردید کے لیے اپنا آخری لفظ استعمال کرچکے ہوں۔