اسلام میں صورت اور حقیقت کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس قدیم رواج کو تسلیم نہیں کیا کہ جو عورت حقیقی ماں نہ ہو وہ محض ماں کا لفظ بول دینے سے کسی کی ماں بن جائے۔ اس قسم کا فعل ایک لغوبات تو ضرور ہے مگر اس کی وجہ سے فطرت کے قوانین بدل نہیں سکتے۔
قرآن میں بتایا گیا کہ محض ظہار سے کسی آدمی کی بیوی پر طلاق نہیں پڑے گی۔ البتہ اس آدمی پر لازم کیا گیا کہ وہ پہلے کفارہ ادا کرے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی بیوی کے پاس جائے۔ کسی غلطی کے بعد جب آدمی اس طرح کفارہ ادا کرتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے یقین کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اس اصول میں اپنے عقیدہ کو از سرِ نو مستحکم بناتا ہے جس کو وہ غفلت یا نادانی سے چھوڑ بیٹھا تھا۔