يا ايها الذين امنوا اذا قيل لكم تفسحوا في المجالس فافسحوا يفسح الله لكم واذا قيل انشزوا فانشزوا يرفع الله الذين امنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات والله بما تعملون خبير ١١
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا۟ فِى ٱلْمَجَـٰلِسِ فَٱفْسَحُوا۟ يَفْسَحِ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُوا۟ فَٱنشُزُوا۟ يَرْفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ دَرَجَـٰتٍۢ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ١١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

” بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول کا بھی منافقین کے ساتھ تعلق ہے۔ ان سے پھر ان آیات اور ماقبل کی آیات کے درمیان ربط واضح ہوجاتا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ آیات مجالس ذکر کے بارے نازل ہوئی ہیں۔ منافقین کا رویہ یہ تھا کہ جب یہ کسی شخص کو مجلس رسول میں آتا دیکھتے تو اپنی جگہ جم کر بیٹھ جاتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ نئے آنے والوں کو مجلس میں جگہ دیا کرو۔

مقاسل ابن حبان نے کہا کہ یہ جمعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس دن حضور ﷺ صفہ میں تھے ، جگہ تنگ تھی۔ حضور ﷺ مہاجرین اور انصار میں سے اہل بدر کا بہت اکرام کرتے تھے۔ اہل بدر میں سے کچھ لوگ آئے اور ان سے پہلے جگہ بھر چکی تھی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد کھڑے ہوگئے اور کہا :

السلام علیکم ایھا النبی ورحمة اللہ وبرکاتہ نبی ﷺ نے سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو سلام کیا۔ انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا۔ یہ لوگ کھڑے رہے کہ شاید یہ لوگ ان کے لئے مجلس میں وسعت پیدا کریں گے تو حضور ﷺ نے معلوم کرلیا کہ وہ کیوں کھڑے ہیں ؟ یہ بات نبی ﷺ کو بہت ناگوار گزری۔ تو آپ کے ارد گرد مہاجرین وانصار میں سے جو غیر بدری لوگ تھے ، حضور ﷺ نے ان سے فرمایا فلاں تم اٹھ جاؤ، فلاں تم اٹھ جاؤ، یوں ہی حضور ﷺ ان کو اٹھاتے رہے جب تک تمام بدریوں کے بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوگئی۔ یہ بات ان لوگوں پر بہت ہی گراں گزری جو اٹھائے گئے تھے۔ ان کے چہروں پر حضور ﷺ نے یہ کراہت دیکھ لی۔ اس پر منافقین نے کہا کہ کیا تم کو یہ یقین نہیں ہے کہ تمہارے ” صاحب “ لوگوں کے درمیان انصاف کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا ہمیں تو اس طرح کا اٹھانا منصفانہ معلوم نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں نے نبی کا قرب چاہا اور قریب بیٹھ گئے۔ اور آپ ﷺ نے ان کو اٹھا دیا اور پھر دیر تک بیٹھے رہے۔ ہم تک یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے اس شخص پر رحم کیا جس نے اپنے بھائی کے لئے مجلس میں جگہ بنائی۔ اس کے بعد اگر کوئی آتا تو وہ لوگ جگہ دینے کے لئے جلدی سے اٹھ جاتے۔ اور لوگ ایک دوسرے کے لئے مجالس میں جگہ بناتے اور یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی۔

اگر یہ روایت درست ہے تو یہ ان احادیث کے منافی نہیں ہے جن میں یہ آیا ہے کہ مجلس سے کسی شخص کو اٹھا کر دوسرے کو نہ بٹھایا جائے۔ جیسا کہ صحیحین کی روایت میں ہے ” کوئی شخص کسی شخص کو مجلس سے اس لئے نہ اٹھائے کہ اس کی جگہ خود بیٹھ جائے لیکن یہ ہے کہ مجالس کے اندر وسعت اور کشادگی پیدا کرو “ اور اسی طرح دوسری احادیث کے بھی یہ خلاف نہیں ہے جن کا مضمون یہ ہے کہ بعد میں آنے والا وہاں بیٹھ جائے جہاں مجلس ختم ہوتی ہے اور لوگوں کی گردنوں کے اوپر چڑھ کر آگے نہ بڑھے تاکہ وہ ممتاز جگہ بیٹھ جائے۔

آیت کا مضمون یہ ہے کہ پہلے بیٹھے ہوئے لوگ آنے والے کے لئے جگہ بنائیں۔ جس طرح آیت میں یہ بھی ہے کہ اگر منتظمین کسی کو کہیں کہ وہ اپنی نشست چھوڑ دے تو اسے چاہیے کہ وہ چھوڑ دے۔ لیکن یہ حکم منتظم اور قیادت سے صادر ہونا چاہئے ، باہر سے آنے والے کی جانب سے نہیں۔

غرض یہاں یہ ہے کہ انسانی نفوس کے اندر وسعت پیدا کی جائے قبل اس کے کہ مجالس کے اندر وسعت پیدا کی جائے۔ اگر دل کے اندر وسعت پیدا ہوجائے تو پھر وہ برداشت کرے گا اور مجلس میں آنے والے بھائیوں کو نہایت ہی محبت اور نہایت ہی خوش اخلاقی کے ساتھ بٹھائے گا اور ان کا استقبال کرے گا اور نہایت خوشی اور رضامندی سے ان کے لئے جگہ بنائے گا۔

لیکن اگر قیادت یہ سمجھتی ہو کہ کسی خصوصیت یا مخصوص حالات کی وجہ سے جگہ خالی کرنا ضروری ہے تو طیب نفس اور خوشی خوشی سے جگہ خالی کردینا چاہئے۔ لیکن اصول اپنی جگہ وہی رہے گا کہ پیچھے آنے والا پیچھے رہے ، گردونوں پر سوار ہو کر آگے نہ بڑھے۔ یا کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ خود نہ بیٹھے۔ یہ تو رواداری ہے اور انتظامی حکم ہے جو فیصلہ کن ہے اور اسلام بہرحال بہترین آداب سکھاتا ہے۔

ہر حکم دینے کے بعد اسلامی نظام تربیت کا یہ اصول ہے کہ وہ لوگوں کے شعور کی اصلاح کرتا ہے۔ یہاں بھی کہا جاتا ہے کہ اگر تم مجالس میں اور دلوں میں وسعت پیدا کرو گے تو اللہ تمہارے لئے وسعت پیدا کردے گا۔

فافسحوا ................ لکم (85 : 11) ” تو جگہ کشاد کردیا کرو ، اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا “ اور وہ لوگ جو اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں اور رسول اللہ یا قیادت کی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ ان کو رفعت مقام عطا کرے گا۔

واذاقیل ........................ درجت (85 : 11) ” اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے ، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا “ یہ ہوگی ان کی تواضع کی جزاء اور تعمیل حکم اور ڈسپلن کا اجر۔

حضور ﷺ کی مجلس میں قریب مقام حاصل کرنا بھی دراصل حصول علم کے لئے ہوا کرتا تھا۔ چناچہ یہ آیت ان کو سکھاتی ہے کہ جو ایمان وسعت قلبی سکھائے ، اطاعت امر سکھائے ، اور وہ علم جو دل کی تہذیب عطا کرے ، اور وہ دل وسیع ہوجائے اور مطیع فرمان ہوجائے تو ایسے علم اور متعلم کے درجات اللہ کے ہاں بلند ہوجاتے ہیں اور یہ جو درجہ عطا ہوا یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے رسول کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے مجلس میں اپنا درجہ چھوڑ دیا۔ لہٰذا اللہ نے اپنے ہاں درجہ دے دیا۔

واللہ ............ خبیر (85 : 11) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ کو اس کی خبر ہے “۔ لہٰذا اللہ علم اور معرفت کی بنا پر ہر کام پر مناسب جزا دے گا اور اللہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ تمہارے کاموں کے پیچھے کیا داعیہ رکھا ہے۔

یوں قرآن کریم انسانی نفوس کی تہذیب اور اخلاقی تربیت کرتا ہے اور انسانوں کو وسعت قلبی ، رواداری ، اطاعت امر سکھاتا ہے۔ اس طرح کہ وہ ناگوار کام کو بھی ذوق وشوق سے کریں۔ دین اسلام محض خشک دفعات پر مشتمل کوئی قانون نہیں ہے۔ یہ تو ایک شعور ، ایک نظریہ ، ایک احساس اور ضمیر کے اندر ایک ملکہ ہے جو عمل پر ابھارتا ہے۔

اب قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ایک دوسرا ادب اہل ایمان کو سکھاتا ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے تنہائی میں گفتگو کرنے والوں کب بہت کثرت ہوگئی تھی اور ہر فرد اپنے انفرادی معاملات میں حضور اکرم ﷺ سے گفتگو چاہتا تھا۔ اور اس کے ذاتی معاملات میں ہدایات اور مشورے چاہتا تھا۔ اور اس دور میں رسول اللہ ﷺ کی اجتماعی ذمہ داریاں بڑھ گئی تھیں اور آپ کا وقت بہت ہی قیمتی تھا۔ اور آپ کے ساتھ تنہائی میں گفتگو ایک بہت ہی اہم اور سنجیدہ مسئلہ بن گیا تھا۔ یہ تو کسی نہایت ہی اہم مسئلے ہی میں ہو سکتا تھا ، لیکن لوگ تھے کہ اس اعزاز کے لئے ٹوٹ پڑے تھے۔ چناچہ اللہ نے تنہائی میں وقت کا مطالبہ کرنے والوں کو کنٹرول کرنے کے لئے مالی تاوان عائد کردیا۔ اور یہ مالی تاوان جماعت کے اجتماعی کاموں کے لئے تھا۔ یوں حضور اکرم ﷺ اپنے وقت کا ایک حصہ ایسے لوگوں کو دے دیتے کیونکہ آپ کا پورا وقت اجتماعی معاملات کے لئے وقف تھا۔ یہ تاوان یوں ہوتا کہ جو شخص تنہائی میں وقت چاہتا وہ پہلے صدقہ کرے۔