قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي الى الله والله يسمع تحاوركما ان الله سميع بصير ١
قَدْ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّتِى تُجَـٰدِلُكَ فِى زَوْجِهَا وَتَشْتَكِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَآ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌۢ بَصِيرٌ ١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اسلام سے پہلے عرب میں رواج تھا کہ کوئی مرد اگر اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ أنتِ عليَّ كظَهْر أمِّي (تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ) تو وہ عورت ہمیشہ کے لیے اس مرد پر حرام ہوجاتی۔ اس کو ظہار کہا جاتا تھا۔ مدینہ کے ایک مسلمان اوس بن صامت انصاری نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کو ایک بار یہی لفظ کہہ دیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور واقعہ بتایا۔ آپ نے قدیم رواج کے اعتبار سے فرما دیا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ تم اس پر حرام ہوگئی ہو۔ خولہ کو پریشانی ہوئی کہ میرا گھر اور میرے بچے برباد ہوجائیں گے۔ وہ فریاد و زاری کرنے لگیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور بتایا گیا کہ ظہار کے بارے میں اسلامی حکم کیا ہے۔