۞ كذبت قبلهم قوم نوح فكذبوا عبدنا وقالوا مجنون وازدجر ٩
۞ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍۢ فَكَذَّبُوا۟ عَبْدَنَا وَقَالُوا۟ مَجْنُونٌۭ وَٱزْدُجِرَ ٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 9 { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ } ”جھٹلایا تھا ان سے پہلے نوح کی قوم نے“ اب یہاں سے اس سورت میں انباء الرسل کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة النجم اور سورة القمر کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چناچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سورة النجم میں ”تذکیر بآلاء اللہ“ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کے ذریعے تذکیر کا انداز تھا ‘ جبکہ اس سورت میں ”تذکیر بایام اللہ“ اور انباء الرسل کا تذکرہ ہے۔ بالکل یہی تقسیم اور یہی انداز اس سے پہلے ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مطالعے کے دوران بھی دیکھ چکے ہیں۔ سورة الانعام میں آلاء اللہ کے ذریعے تذکیر کی گئی ہے ‘ جبکہ سورة الاعراف میں انباء الرسل کا انداز ہے۔ اسی طرح یہ دونوں سورتیں بھی مل کر تذکیر و انذار کے دونوں پہلوئوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ { فَـکَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ۔ } ”تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ یہ تو مجنون ہے اور اسے جھڑک دیا گیا۔“ اس بدبخت قوم نے ہمارے جلیل القدر رسول علیہ السلام کو نہ صرف جھٹلا دیا بلکہ اس کے ساتھ اہانت آمیز سلوک روا رکھا۔