وما امرنا الا واحدة كلمح بالبصر ٥٠
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلَّا وَٰحِدَةٌۭ كَلَمْحٍۭ بِٱلْبَصَرِ ٥٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

وما امرنا ............ بالبصر (45: 0 5) ” ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکائے وہ عمل میں آجاتا ہے۔ “ صرف ایک اشارہ اور ایک ہی کلمہ تمام کام مکمل کردیتا ہے۔ چھوٹا کام بھی اور بڑا انقلاب بھی۔ اللہ کے لئے تو کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہے۔ یہ انسانی تقدیرات ہیں جن میں بڑے اور چھوٹے کام ہیں۔ اللہ کے ہاں نہ زمان ہے نہ مکان ہے اور نہ پلک جھپکنا ہے۔ وہاں تو کن فیکون ہے۔ یہ انسانوں کو سمجھانے کے لئے بڑے اور چھوٹے اور مختصر وقت کی مثالیں دی گئی ہیں۔ زمان کیا ہے ، انسان کا ایک چھوٹا سا تصور جو وہ اس زمین کے گردش محوری اور سالانہ سے پیمائش کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں زمانے کا یہ تصور نہیں ہے۔ یہ تو بہت ہی محدود تصور ہے۔

ایک لفظ ۔ جو اس پوری کائنات کو جود میں لاتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو اس میں تغیرات پیدا کرتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو اس کو نابود کردے گا۔ ایک لفظ ہے جو ہر چیز کو وجود بخشتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو حیات کو پھیلاتا ہے۔ ایک لفظ ہے جو موت دیتا ہے اور ایک لفظ ہوگا جو دوبارہ اٹھادے گا۔ ایک لفظ سے حشر ونشر برپا ہوگا اور حساب و کتاب ہوگا۔ ایک لفظ ایک ارادہ ، کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی کسی زمان ومکان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس قدرت ہے تقدیر ہے اور ہر چیز اللہ کے لئے آسان ہے۔

اور یہی لفظ تھا جس کے ذریعہ ہم زمانوں کو ہلاک کرکے لپیٹ چکے ہیں ذرا تاریخ پر نگاہ ڈالو۔