سيهزم الجمع ويولون الدبر ٤٥
سَيُهْزَمُ ٱلْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ ٱلدُّبُرَ ٤٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

سیھزم ............ الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “ لہٰذا ان کی جمعیت انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔ ان کی قوت ان کے لئے مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ یہ اعلان چونکہ اللہ قہار وجبار کا تھا اس لئے ایسا ہی ہوا اور ایسا ہی ہونا تھا۔

مسلم اور بخاری نے ابن عباس کی روایت نقل کی فرمایا کہ حضور اکرم بدر کے دن آپ کے لئے بنائے ہوئے ایک چبوترے میں تھے اور دعا کررہے تھے ، اے اللہ میں تجھ کو تیرے وعدے اور کہد کا واسطہ دیتا ہوں۔ اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری بندگی اس زمین پر نہ ہوگی “ حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑا اور کہا یارسول اللہ آپ کے لئے یہی کافی ہے آپ نے رب تعالیٰ کے سامنے بہت زاری کرلی ہے۔ آپ نکلے اور زرہ میں ڈوبے ہوئے تھے اور آپ کہہ رہے تھے۔

سیھزم الجمع ویوکون الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “

ابن ابو حاتم کی روایت میں مکرمہ سے نقل ہے۔ انہوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی۔

سیھزم ............ الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ کون سا جتھا یعنی کونسا جتھا شکست کھائے گا۔ عمر کہتے ہیں جب بدر کا دن آیا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ زرہ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہی آیت پڑھ رہے ہیں۔ ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ “ تو اس وقت میری سمجھ میں بات آئی کہ اس سے کونسی جمعیت مراد ہے۔ یہ تو تھی دنیا کی ہزیمت لیکن یہ آخری ہزیمت نہ تھی اور نہ ہی یہ شدید اور تلخ عذاب ہے چناچہ اس دنیاوی شکست کے بعد اب آخری شکست کی طرف بات پھرجاتی ہے۔