ولقد ............ مستقر (45: 83) ” لوط نے اپنی قوم کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبہیات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبہیات کا مزہ۔ صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو اس منکر سے ایک طویل عرصے تک منع کیا لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ ہمیشہ شک میں مبتلا رہے اور ایک دوسرے کی طرف شک ہی کو منتقل کرتے رہے اور ایک دوسرے سے شک ہی اخذ کرتے رہے اور نبی کے ساتھ جھگڑتے ہی رہے اور ان کی بدتمیزی اس حدتک پہنچ گئی کہ خود لوط (علیہ السلام) کے ہاں جب مہمان ، فرشتے آئے تو انہوں نے ان کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ خوش شکل لڑکے ہیں تو ان کے گندے جذبات جوش میں آگئے۔ انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو گھیر لیا اور مقصد یہ تھا کہ اس کے مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی کریں۔ انہوں نے سنجیدگی اور شرم وحیا کے جامے تار تار کردیئے اور انہوں نے اپنے نبی کی عزت کا بھی خیال نہ رکھا حالانکہ انہوں نے ان کو بار بار اس فعل بد کے انجام بد سے ڈرایا تھا۔
اس مقام پر اب دست قدرت مداخلت کرتی ہے۔ فرشتے اس عذاب کے برپا کرنے کے لئے حرکت میں آتے ہیں جس کے لئے انہیں بھیجا گیا تھا۔
فطمسنا اعینھم (45: 73) ” ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں “ اور وہ اس طرح ہوگئے کہ نہ کسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ انسانوں کو۔ اب نہ وہ لوط کو گھیر سکتے ہیں نہ مہمانوں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یہ کہ قوم لوط کو اندھا کردیا گیا تھا۔ اس کا ذکر صرف یہاں آیا ہے۔ پوری وضاحت کے ساتھ دوسری جگہ یہ ہے۔
قالوا ............ الیک ” لوط ، ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں یہ لوگ تیری طرف نہیں پہنچ سکتے۔ “ یہاں پر تفصیل دے دی کہ وہ فرشتوں اور لوط (علیہ السلام) تک اس لئے نہ پہنچ سکتے تھے کہ ان کو اندھا کردیا گیا تھا۔
اب تک تو بات بطور حکایت ہورہی تھی ، اچانک آنکھوں کے سامنے ایک منظر آتا ہے اور جن پر عذاب آیا ہے ان سے مخاطب ہورہا ہے۔
فذوقوا عذابی ونذر (45: 73) ” چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “ یہ ہے وہ عذاب جس سے تمہیں ڈرایا جارہا تھا اور یہ ہیں وہ تنبیہات جن میں تم شک کررہے تھے۔
ان کی آنکھیں شام کو موند دی گئیں اور صبح تک وہ یونہی رہے کیونکہ اللہ نے ان کے لئے عذاب صبح کے وقت مقرر کیا ہوا تھا۔
ولقد ............ مستقر (45: 83) ” صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا “ اور یہ وہی عذاب تھا جس کا جلد سے تذکرہ اوپر کردیا گیا۔ یہ وہ سخت ہوا تھی جس نے مٹی کے پتھروں کی بارش ان پر کردی تھی اور اس نے زمین کو اس گندگی اور فساد سے پاک کردیا۔
اب پھر انداز بیان میں فرق آتا ہے۔ منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا ابھی کا واقعہ ہے اور جن کو عذاب دیا گیا ان سے خطاب شروع ہے۔