انا ارسلنا ............ المختظر (45: 13) ” ہم نے ان پر بس ایک ہی دھماکہ چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے “ قرآن کریم نے اس چیخ اور دھماکے کی تفصیلات نہیں دی ہیں۔ اگرچہ دوسری جگہ سورت فصلت میں تفصیل آتی ہے کہ۔
فقل ............ وثمود (1 4: 31) ” تو کہہ دو کہ میں تمہیں اسی طرح اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا “ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صاعقہ صیحہ کی صفت ہو یعنی کڑاکے دار آواز۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحہ اور صاعقہ ایک ہی حقیقت کے لئے استعمال ہوں یعنی اچانک ٹوٹ پڑنے والا عذاب اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحہ صاعقہ کی آواز ہو یا صاعقہ آواز کا اثر ہو۔ آواز دی کس طرح اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔
بہرحال ان پر ایک کڑاکے دار اور دھماکہ خیز آعواز آئی اور ان کو ختم کرکے رکھ دیا۔ یہ اس ترح ہوگئے کھشیم المحنظر (وہ باڑ والے کی روندی ہوئی باڑ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے) المحنظر وہ شخص جو خطیرہ یا باڑہ بناتا ہے اور یہ باڑہ وہ خشک کانٹے دار لکڑیوں سے بناتا ہے یہ لوگ اس طرح ہوگئے جس طرح خشک بوسیدہ لکڑیاں جو ٹوٹ پھوٹ کر بھس بن گئی ہوں تشبیہ یوں ہے کہ باڑے والا اپنے مویشیوں کے لئے لکڑیوں اور درختوں کی شاخیں جمع کرتا ہے کہ شاخیں مویشی کھاتے ہیں اور خشک ہوجاتی ہیں اور ان کو مویشی روندتے ہیں تو وہ بھوسے کی طرح پس جاتی ہیں تو یہ قوم اس طرح ہوگئی جس طرح باڑے والے کی جھاڑیاں کھائی ہوئی اور روندی ہوئی۔ صرف ایک ہی ربانی چیخ سے۔
یہ سخت درد ناک وخوفناک منظر ہے اور یہ ان لوگوں کے جواب میں ہے جو مفسد تھے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے چناچہ ان متکبرین کو پیس ڈالا گیا۔
اس درد ناک وخوفناک منظر کے بعد لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کی آیات سے نصیحت حاصل کریں اور تدبر کریں اور اس مقصد کے لئے قرآن بہترین گائیڈ ہے۔