سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی کون ہے۔ “ یہ قصص کے بیان کا ایک قرآنی طریقہ ہے۔ یہ انداز قصے میں جان ڈال دیتا ہے کہ بجائے محض قصہ پارینہ کے تخیل کے زور سے اس قصے کو ایک منظر نامے کی شکل میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ قصہ نہیں رہتا بلکہ حال اور مستقبل کے واقعات بن جاتا ہے۔
سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی وہ جان لیں گے کہ جھوٹا اور لالچی کون ہے “ کل یہ حقیقت کھل جائے گی اور یہ چھوٹ نہیں سکیں گے اور یہ مصیبت بتادے گی کہ کون جھوٹا ہے اور جھوٹوں کی سزا کیا ہے۔