فقالوا ابشرا منا واحدا نتبعه انا اذا لفي ضلال وسعر ٢٤
فَقَالُوٓا۟ أَبَشَرًۭا مِّنَّا وَٰحِدًۭا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّفِى ضَلَـٰلٍۢ وَسُعُرٍ ٢٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 24 { فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّــتَّبِعُہٗٓ لا } ”انہوں نے کہا : کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک بشر کی پیروی کریں ؟“ { اِنَّــآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۔ } ”پھر تو یقیناہم پڑجائیں گے گمراہی میں اور آگ میں۔“ اپنے جیسے ایک انسان کی اطاعت اور پیروی کرنے کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے آپ کو خود ہی گمراہی میں اور آگ کے گڑھے میں ڈال دیا۔ سُعُر جمع ہے سَعِیْر کی اور سَعِیْرکے معنی آگ کے ہیں۔ ایسی باتیں کرتے ہوئے وہ لوگ گویا حضرت صالح علیہ السلام ہی کے الفاظ میں آپ علیہ السلام کو جواب دے رہے تھے۔ حضرت صالح علیہ السلام ان سے کہتے تھے کہ تم لوگ اگر میری بات نہیں مانو گے تو آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنو گے۔ جواب میں وہ کہتے تھے کہ تم ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو۔ اگر ہم تمہیں اپنا پیشوا مان کر تمہارے پیچھے چل پڑیں تو یہ گمراہی کا راستہ ہوگا اور ہمارے لیے اسی دنیا میں خود کو آگ میں جھونک دینے کے مترادف ہوگا۔