You are reading a tafsir for the group of verses 51:52 to 51:55
كذالك ما اتى الذين من قبلهم من رسول الا قالوا ساحر او مجنون ٥٢ اتواصوا به بل هم قوم طاغون ٥٣ فتول عنهم فما انت بملوم ٥٤ وذكر فان الذكرى تنفع المومنين ٥٥
كَذَٰلِكَ مَآ أَتَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا۟ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ٥٢ أَتَوَاصَوْا۟ بِهِۦ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌۭ طَاغُونَ ٥٣ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٍۢ ٥٤ وَذَكِّرْ فَإِنَّ ٱلذِّكْرَىٰ تَنفَعُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٥٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔

یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔