فاوجس منهم خيفة قالوا لا تخف وبشروه بغلام عليم ٢٨
فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةًۭ ۖ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَـٰمٍ عَلِيمٍۢ ٢٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

فاوجس منھم خیفة (15 : 82) ” پھر وہ دل میں ان سے ڈرا “ یا تو اس لئے کہ آنے والا اجنبی اگر کھانا نہیں کھاتا تو اس کی نیت خراب ہے۔ وہ کوئی شریا خیانت کرنے کی نیت سے آیا ہے یا یہ کہ حضرت ابراہیم نے ان فرشتوں کے اندر کوئی عجیب علامات دیکھ لیں۔ جب انہوں نے ان کے چہرے خوف کے آثار دیکھے تو انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ ان کو اطمینان دلایا اور آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دی۔

قالوا ........ علیم (15 : 82) ؟ ؟ انہوں نے کہا ڈرو نہیں اور اسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا “ یہ بشارت حضرت اسحاق کے بارے میں تھی جو ان کی بانجھ بیوی سے پیدا ہوئے تھے۔