هل اتاك حديث ضيف ابراهيم المكرمين ٢٤ اذ دخلوا عليه فقالوا سلاما قال سلام قوم منكرون ٢٥ فراغ الى اهله فجاء بعجل سمين ٢٦ فقربه اليهم قال الا تاكلون ٢٧ فاوجس منهم خيفة قالوا لا تخف وبشروه بغلام عليم ٢٨ فاقبلت امراته في صرة فصكت وجهها وقالت عجوز عقيم ٢٩ قالوا كذالك قال ربك انه هو الحكيم العليم ٣٠
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ ٱلْمُكْرَمِينَ ٢٤ إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَـٰمًۭا ۖ قَالَ سَلَـٰمٌۭ قَوْمٌۭ مُّنكَرُونَ ٢٥ فَرَاغَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ فَجَآءَ بِعِجْلٍۢ سَمِينٍۢ ٢٦ فَقَرَّبَهُۥٓ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ٢٧ فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةًۭ ۖ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَـٰمٍ عَلِيمٍۢ ٢٨ فَأَقْبَلَتِ ٱمْرَأَتُهُۥ فِى صَرَّةٍۢ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌۭ ٢٩ قَالُوا۟ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْعَلِيمُ ٣٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔
اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔