You are reading a tafsir for the group of verses 51:10 to 51:19
قتل الخراصون ١٠ الذين هم في غمرة ساهون ١١ يسالون ايان يوم الدين ١٢ يوم هم على النار يفتنون ١٣ ذوقوا فتنتكم هاذا الذي كنتم به تستعجلون ١٤ ان المتقين في جنات وعيون ١٥ اخذين ما اتاهم ربهم انهم كانوا قبل ذالك محسنين ١٦ كانوا قليلا من الليل ما يهجعون ١٧ وبالاسحار هم يستغفرون ١٨ وفي اموالهم حق للسايل والمحروم ١٩
قُتِلَ ٱلْخَرَّٰصُونَ ١٠ ٱلَّذِينَ هُمْ فِى غَمْرَةٍۢ سَاهُونَ ١١ يَسْـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلدِّينِ ١٢ يَوْمَ هُمْ عَلَى ٱلنَّارِ يُفْتَنُونَ ١٣ ذُوقُوا۟ فِتْنَتَكُمْ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ ١٤ إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـٰتٍۢ وَعُيُونٍ ١٥ ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَىٰهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ ١٦ كَانُوا۟ قَلِيلًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ١٧ وَبِٱلْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ١٨ وَفِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّۭ لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ ١٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔

سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔