درس نمبر 249 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ۔ گویا یہ آخری زمزمہ ہے اور نہایت ہی زور دار آواز میں بتایا جاتا ہے کہ سنو انسانی تاریخ میں امم سابقہ کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ اس میں کائنات کی ایک جھلک بھی ہے اور حشر ونشر کے بارے میں بھی ایک منظر پیش کیا گیا ہے اور قرآن کے بارے میں بھی ہدایت ہے کہ آپ کام جاری رکھیں۔ قلب و نظر کے لئے بھی کئی ہدایات ہیں ، اس سبق میں۔
یہ تمام جھلکیاں اس پوری سورت میں بھی گزری ہیں لیکن آخر میں یہ ایک نئے ٹچ کے ساتھ دہرائی گئی ہیں ۔ نہایت تیزی کے ساتھ نکتہ وار ، انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے لیکن ایک نئے ذوق اور نئے انداز میں اور یہی قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ ایک بات کو جب ایک ہی سورت میں دہراتا ہے تو وہ نئی معلوم ہوتی ہے۔ پہلے کیا گیا۔
کذبت قبلھم ۔۔۔۔ وثمود (50 : 12) وعاد وفرعون واخوان لوط (50 : 13) واصحب الیکۃ ۔۔۔۔ فحق وعید (50 : 14) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اصحاب الرس اور ثمود ، اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ جھٹلا چکے ہیں ، ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر چسپاں ہوگئی “ ۔ اور یہاں کہا گیا :
جس حقیقت کی طرف اشارہ مطلوب تھا وہ یہ ہے لیکن یہاں بالکل جدید انداز میں ہے اور پہلی آیت میں جو انداز ہے اس سے بالکل مختلف۔ یہاں اقوام کی ایک صفت کا اضافہ کردیا گیا کہ انہوں نے پوری دنیا میں نقب لگاکر اسے چھان مارا تھا۔ وہ ہر طرف دوڑے پھرتے تھے۔ اسباب حیات تلاش کرتے تھے لیکن جب ان کو پکرا گیا تو پھر کیا کوئی جائے فرار تھی ؟
ھل من محیص (50 : 36) ” پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے “ ۔ نہیں ! پیش ہے ایک اضافہ اور جس سے بات اور جاندار ہوجاتی ہے :