لقد کنت فی ۔۔۔۔ الیوم حدید (50 : 22) ” اس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا۔ ہم نے پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا ، اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے “ ۔ آج تیری نظر بڑی تیز ہے اور پردوں کو پار کر کے بھی دیکھ رہی ہے ۔ کام کرنے کی جگہ میں تو نے غفلت برتی۔ تو نے اس وقت کا خیال ہی نہ رکھا ۔ یہ ہے وہ انجام جس کی تو توقع ہی نہ رکھتا تھا۔ آج دیکھتا جاتا۔ آج تیری نظر تیز ہے۔
اب اس کا ساتھی آگے بڑھتا ہے۔ راجح یہ ہے کہ یہ وہ گواہ ہے جس کے پاس اس کا اعمال نامہ ہے۔