(آیت) ” نمبر 91۔
ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل مکہ میں سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس آتے تھے اور ریاکاری کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے اور پھر قریش کے پاس واپس ہوتے تو الٹے پاؤں پھر کر دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردیتے تھے ۔ ان کا مقصد اس پالیسی کے اختیار کرنے سے یہ تھا کہ ادھر بھی امن سے رہیں اور ادھر بھی امن سے رہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اگر وہ اپنی یہ پالیسی چھوڑ کر اصلاح پذیر نہیں ہوتے تو انہیں قتل کردیا جائے ۔ اس طرح اللہ کا یہ فرمان کہ اگر وہ تمہارے مقابلے سے باز نہ آئیں اور تمہارے سامنے مکمل صلح وسلامتی پیش نہ کریں اور تمہارے ساتھ جنگ سے ہاتھ نہ روکیں تو تمہیں اختیار ہے کہ تم انہیں پکڑ کر قید کر دو ‘ اور جہاں بھی تمہیں ملیں وہاں پر انہیں قتل کر دو ‘ اس لئے کہ ان پر حجت تمام ہوگئی ہے ۔
یہ اسلام کا ایک حقیقت پسندانہ اور دوٹوک پہلو ہے ‘ جبکہ اس سے قبل کی دفعہ میں رواداری اور چشم پوشی سے کام لینے کی تلقین کی گئی تھی ۔ ہر پالیسی اپنی جگہ پر مناسب اور ضروری تھی ۔ واقعات اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مختلف موقف اور پالیسیاں اختیار کی گئیں ۔
اس انداز میں اسلام کی بین الاقوامی پالیسی کے ان دو صفحات کے مطالعے سے ایک مسلم کے شعور میں بہت ہی اچھی طرح توازن پیدا ہوتا ہے ۔ نیز اس سے اسلامی نظام زندگی کے اندر بھی توازن پیدا ہوتا ہے اور یہ توازن اور ہم آہنگی اسلامی نظام زندگی کی اساسی اور امتیازی صفت ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک طرف سخت متشدد اور پر جوش لوگ ہیں جو ہر وقت مرو اور مارو کے لئے تیار رہتے ہیں حالانکہ یہ اسلام کی پالیسی نہیں ہے ۔ دوسری جانب نہایت ہی کمزور کردار کے پگھلنے والے لوگ ہیں جو سرے سے اسلام میں جہاد ہی کے قائل نہیں ۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں اس انداز سے بات کرتے ہیں گویا اسلام ایک ملزم ہے جو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہے اور یہ لوگ اس خطرناک ملزم کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ۔ یہ لوگ اسلام میں صرف رواداری ‘ امن چشم پوشی اور عفو و درگزر ہی پاتے ہیں اگر اسلام میں کوئی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ تھی اور یہ اس مقصد کے لئے نہ تھی کہ دعوت اسلامی کی راہ سے رکاوٹیں دور ہوں اور اس کی تبلیغ دنیا کے چپے چپے پر بلا روک ٹوک کی جاسکے ۔
ان لوگوں کے نزدیک یہ مقصد بھی نہ تھا کہ اس کرہ ارض کے کونے کونے پر وہ تمام لوگ پرامن زندگی بسر کریں ‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیا ہے ۔ نیز ان لوگوں کے نزدیک اس پالیسی کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ دنیا کے اندر ایک ایسا نظام مملکت ہو اور ایک ایسا قانونی اور دستوری نظام ہو جس کے تحت لوگ مکمل نظریاتی آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ‘ جو عقیدہ چاہیں اختیار کرسکیں ‘ حالانکہ ایسے لوگوں کی سوچ ہر گز اسلامی سوچ نہیں ہے اور نہ یہ اسلام کی حقیقی پالیسی ہے اسلام نے جو درج بالا بین الاقوامی اصول دیئے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی حقیقی پالیسی کیا ہے ؟
یہ تو تھے مسلمانوں کے تعلقات دوسرے بیان الاقوامی ممالک اور کیمپوں کے ساتھ ۔ رہے مسلمانوں کے باہم تعلقات امت مسلمہ کے اندر ‘ تو اگرچہ وہ بالکل مختلف ممالک کے باشندے ہوں اور اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ مسلمان مختلف ممالک میں رہتے تھے جس طرح آج وہ مختلف ممالک میں رہتے ہیں ‘ تو ان کے درمیان قتل ومقاتلہ قطعا حرام ہے ۔ کسی مسلمان کو صرف حد یا قصاص ہی میں قتل کیا جاسکتا ہے اس لئے دنیا میں ایسی کوئی چیز یا سبب نہیں ہے جو مسلمانوں کے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلم کو ناحق کو قتل کرے اس لئے کہ ان کے درمیان نظریہ حیات اور عقیدے کے اتحاد کا زبردست تعلق پایا جاتا ہے ۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کسی مسلم کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کا قتل خطا کے طور پر ہوجائے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں قتل خطا کے بارے میں قانون سازی کو ضروری سمجھا گیا ۔ رہا قتل عمد تو اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اسلام مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے ناحق قتل کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ یہ فعل حدود اسلام سے باہر کا فعل ہے ۔