You are reading a tafsir for the group of verses 4:84 to 4:87
فقاتل في سبيل الله لا تكلف الا نفسك وحرض المومنين عسى الله ان يكف باس الذين كفروا والله اشد باسا واشد تنكيلا ٨٤ من يشفع شفاعة حسنة يكن له نصيب منها ومن يشفع شفاعة سيية يكن له كفل منها وكان الله على كل شيء مقيتا ٨٥ واذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منها او ردوها ان الله كان على كل شيء حسيبا ٨٦ الله لا الاه الا هو ليجمعنكم الى يوم القيامة لا ريب فيه ومن اصدق من الله حديثا ٨٧
فَقَـٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًۭا وَأَشَدُّ تَنكِيلًۭا ٨٤ مَّن يَشْفَعْ شَفَـٰعَةً حَسَنَةًۭ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَـٰعَةًۭ سَيِّئَةًۭ يَكُن لَّهُۥ كِفْلٌۭ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ مُّقِيتًۭا ٨٥ وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍۢ فَحَيُّوا۟ بِأَحْسَنَ مِنْهَآ أَوْ رُدُّوهَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَسِيبًا ٨٦ ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثًۭا ٨٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش كيے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں، جس میںآدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑنا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دین داری کا سکہ قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے۔ ایک بات کا حق ثابت ہوجانا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔ یہ صورت حال کبھی اتنی سنگین ہوجاتی ہے کہ حق کی تائید وحمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے۔تاہم جہاں تک سچے اہل ایمان کا تعلق ہے ان کو ہر حال میں یہ حکم ہے کہ عام معاشرتی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں۔ مسلمان کا رویہ دوسروں کے رد عمل میں نہیں بننا چاہیے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے بننا چاہیے۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لیے کیا فیصلہ کرے۔

نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدر صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی یہ خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکرین کا زورتوڑے۔ مگر خدا کی یہ سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سروسامانی کے باوجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لیے نکل پڑے ہوں۔