اينما تكونوا يدرككم الموت ولو كنتم في بروج مشيدة وان تصبهم حسنة يقولوا هاذه من عند الله وان تصبهم سيية يقولوا هاذه من عندك قل كل من عند الله فمال هاولاء القوم لا يكادون يفقهون حديثا ٧٨
أَيْنَمَا تَكُونُوا۟ يُدْرِككُّمُ ٱلْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِى بُرُوجٍۢ مُّشَيَّدَةٍۢ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌۭ يَقُولُوا۟ هَـٰذِهِۦ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَقُولُوا۟ هَـٰذِهِۦ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ فَمَالِ هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًۭا ٧٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 78 اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ ظاہر ہے قتال سے جی چرانے کا اصل سبب موت کا خوف تھا۔ چناچہ ان کے دلوں کے اندر جو خوف تھا اسے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ موت سے کوئی مفر نہیں ‘ تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی۔وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ط۔اگرچہ تم بہت مضبوط fortified قلعوں کے اندر اپنے آپ کو محصور کرلو۔ پھر بھی موت سے نہیں بچ ‘ سکتے۔وَاِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ یَّقُوْلُوْا ہٰذِہِ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ج۔منافقین کا ایک طرز عمل یہ بھی تھا کہ اگر مسلمانوں کو کوئی کامیابی حاصل ہوجاتی ‘ فتح نصیب ہوجاتی ‘ کوئی اور بھلائی پہنچ جاتی ‘ حضور ﷺ کی تدبیر کے اچھے نتائج نکل آتے تو اسے حضور ﷺ کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ کہتے تھے کہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے ‘ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌ یَّقُوْلُوْا ہٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ ط آپ ﷺ نے یہ غلط اقدام کیا تو اس کے نتیجے میں ہم پر یہ مصیبت آگئی۔ یہ آپ کا فیصلہ تھا کہ کھلے میدان میں جا کر جنگ کریں گے ‘ ہم نے تو آپ کو مشورہ دیا تھا کہ مدینے کے اندر محصور ہو کر جنگ کریں۔قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط ۔یہ سب چیزیں ‘ خیر ہو ‘ شر ہو ‘ تکلیف ہو ‘ آسانی ہو ‘ مشکل ہو ‘ جو بھی صورتیں ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں۔