ورسلا قد قصصناهم عليك من قبل ورسلا لم نقصصهم عليك وكلم الله موسى تكليما ١٦٤
وَرُسُلًۭا قَدْ قَصَصْنَـٰهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًۭا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًۭا ١٦٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 164 وَرُسُلاً قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلاً لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ ط پوری دنیا کی تاریخ بیان کرنا تو قرآن مجید کا مقصد نہیں ہے کہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام کی مکمل فہرست دے دی جاتی۔ یہ تو کتاب ہدایت ہے ‘ تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔ وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا یہ خاص حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امتیازی شان بیان ہوئی ہے۔ لیکن یہ مکالمہ مِنْ وَرَآ ءِ حِجَابٍ تھا ‘ یعنی پردے کے پیچھے سے ‘ البتہ تھا دُوُ بدو کلام۔ اب اس کے بعد وہ آیت آرہی ہے جس میں نبوت کا اساسی مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ تمام رسول علیہ السلام کس لیے بھیجے گئے تھے۔