آیت 157 وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج یعنی اللہ کے رسول کو قتل کردیا ! یہاں یہ رَسُوْلَ اللّٰہِکے الفاظ ان کے نہیں ہیں ‘ بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں استعجابیہ نشان sign of exclamation کے ساتھ ‘ کہ اچھا ان کا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے ! جبکہ رسول تو قتل ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ کا تو فیصلہ ہے ‘ ایک طے شدہ امر ہے ‘ اللہ کی طرف سے لکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط المجادلۃ : 21 تو ان کی یہ جرأت کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے !وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ط معاملہ ان کے لیے مشتبہ کردیا گیا اور ایک شخص کی حضرت مسیح علیہ السلام جیسی صورت بنا دی گئی ‘ ان کے ساتھ مشابہت کردی گئی۔ چناچہ انہوں نے جس کو مسیح سمجھ کر سولی پر چڑھایا ‘ وہ مسیح علیہ السلام نہیں تھا ‘ ان کی جگہ کوئی اور تھا۔ انجیل برنباس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا نام یہودا اسخریوطی Judas Iscariot تھا اور وہ آپ علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھا۔ ویسے اس کی نیت کچھ اور تھی ‘ اس میں بد نیتی بہر حال نہیں تھی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے لیکن چونکہ اس نے آپ علیہ السلام کو گرفتار کرایا تھا ‘ چناچہ اس گستاخی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس کی شکل حضرت مسیح علیہ السلام جیسی بنا دی اور حضرت مسیح علیہ السلام کی جگہ وہ پکڑا گیا اور سولی چڑھا دیا گیا۔وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط انہیں خود پتا نہیں کہ کیا ہوا ؟ کیسے ہوا ؟مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ الاَّ اتِّبَاع الظَّنِّج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز قتل نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا گیا۔