You are reading a tafsir for the group of verses 4:13 to 4:14
تلك حدود الله ومن يطع الله ورسوله يدخله جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها وذالك الفوز العظيم ١٣ ومن يعص الله ورسوله ويتعد حدوده يدخله نارا خالدا فيها وله عذاب مهين ١٤
تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ١٣ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدْخِلْهُ نَارًا خَـٰلِدًۭا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ ١٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آدمی جو قانون بناتا ہے اس میں کسی نہ کسی پہلو کی طرف جھکاؤ ہوجاتا ہے۔ قدیم قبائلی دور میں لڑکا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ وہ قبیلہ کے لیے طاقت کا ذریعہ تھا۔ اس ليے وراثت میں لڑکی کو محروم کرکے سارا حق لڑکے کو دے دیاگیا۔ موجودہ زمانے میں اس کا رد عمل ہوا تو لڑکا اور لڑکی دونوں برابر کرديے گئے۔ لیکن پچھلا اصول اگر غیر منصفانہ تھا تو موجودہ اصول غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کا علم وحکمت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ جو قانون دے وہ ہر قسم کی بے اعتدالی سے پاک ہو۔ اللہ نے اس سلسلہ میں جو ضابطے مقرر کيے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ سماجی انصاف کا حقیقی ذریعہ ہیں بلکہ آخرت کی زندگی سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔ یتیموں کے حقوق ادا کرنا، وصیت کی تعمیل کرنا، وراثت کو اس کے وارثوں تک پہنچانا ان امور میں سے ہیں جن پر آدمی کی دوزخ اور جنت کا انحصار ہے۔ 1/3 حصہ میں وصیت کرنا شرعاً جائزہے۔ لیکن کوئی شخص ایسی وصیت کرے جس کا مقصد حق دار کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو اس کو جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے (مَنْ ضَارَّ فِي وَصِيَّتِهِ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي وَادِي جَهَنَّمَ ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد 3، صفحہ 549 ۔اس معاملہ میں آدمی کو خدا کے مقرر کیے ہوئے ضابطہ پر چلنا ہے، نہ کہ ذاتی خواہشوں اور خاندانی مصلحتوں کے اوپر۔