اب جو آیات آرہی ہیں ان میں خطاب مسلمانوں ہی سے ہے لیکن ان کی حیثیت استدراک کی ہے اور ان کا تعلق اس سورة کی ابتدائی آیات کے ساتھ ہے۔ سورة النساء کے آغاز میں خواتین کے مسائل کے بارے میں کچھ احکام نازل ہوئے تھے ‘ جن میں یتیم بچیوں سے نکاح کے بارے میں بھی معاملات زیر بحث آئے تھے اور کچھ طلاق وغیرہ کے مسائل تھے۔ اس میں کچھ نکات لوگوں کے لیے وضاحت طلب تھے ‘ لہٰذا ایسے نکات کے بارے میں مسلمانوں کی طرف سے کچھ سوالات کیے گئے اور حضور ﷺ سے کچھ وضاحتیں طلب کی گئیں۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحتیں نازل کی ہیں اور اس سوال کا حوالہ دے کر بات شروع کی گئی ہے جس کا جواب دیا جانا مقصود ہے۔آیت 127 وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآءِ ط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّلا وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآءِ یہ اسی سورة کی آیت 3 کی طرف اشارہ ہے۔ آیت زیر نظر کے ساتھ مل کر اس آیت کی تشریح بھی بالکل واضح ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ وہاں جو فرمایا گیا تھا وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِی الْْیَتٰمٰی تو اس سے اصل مراد یَتٰمَی النِّسَآءِتھا۔ یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں سے شادی کرو گے تو ان کے ساتھ انصاف نہیں کرسکو گے اس لیے کہ ان کی طرف سے کوئی نہیں جو ان کے حقوق کا پاسدار ہو اور تم سے باز پرس کرسکے تو پھر ان سے شادی مت کرو ‘ بلکہ دوسری عورتوں سے شادی کرلو۔ اگر ایک سے زائد نکاح کرنا چاہتے ہو تو اپنی پسند کی دوسری عورتوں سے ‘ دو دو ‘ تین تین یا چار چار سے کرلو فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ج الّٰتِیْ لاَ تُؤْتُوْنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ یتیم سمجھ کر مہر ادا کیے بغیر ان سے نکاح کرنے کے خواہش مند رہتے ہو۔وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ لا وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰی بالْقِسْطِ ط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا وہ تمہاری نیتوں کو جانتا ہے۔ اس نے شریعت کے احکام نازل کردیے ہیں ‘ بنیادی ہدایات تمہیں دے دی گئی ہیں۔ اب اضافی چیز تو بس یہی ہے کہ تمہاری نیّت صاف ہونی چاہیے۔ کیونکہ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط البقرۃ : 220 اللہ جانتا ہے کہ کون حقیقت میں شرارتی ہے اور کس کی نیت صحیح ہے۔