ومن يكسب خطيية او اثما ثم يرم به برييا فقد احتمل بهتانا واثما مبينا ١١٢
وَمَن يَكْسِبْ خَطِيٓـَٔةً أَوْ إِثْمًۭا ثُمَّ يَرْمِ بِهِۦ بَرِيٓـًۭٔا فَقَدِ ٱحْتَمَلَ بُهْتَـٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا ١١٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 112 وَمَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْٓءَۃً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓءًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا کسی نے کوئی گناہ کمایا ‘ کوئی خطا کی ‘ کوئی غلطی کی ‘ کوئی جرم کیا ‘ پھر اس کی تہمت کسی بےقصور شخص پر لگا دی تو بہت بڑے بہتان اور کھلم کھلا گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ مذکورہ معاملے میں یہودی تو بےقصور تھا ‘ جو لوگ اس کو سزا دلوانے کے لیے تل گئے تو ان کا یہ فعل یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓءًا کے زمرے میں آگیا۔ کسی بےگناہ پر اس طرح کا بہتان لگانا اللہ کے نزدیک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس کے بعد اب اس یہودی اور منافق کے مقدمے کے کچھ مزید پہلوؤں کے بارے میں حضور ﷺ سے خطاب ہو رہا ہے۔