ذلک بان الذین ۔۔۔۔۔ من ربھم (47 : 3) “ اور یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ”۔ جہاں تک باطل کا تعلق ہے اس کی جڑیں اس کائنات کے اندر دور تک نہیں ہوتیں ، اس لیے وہ تباہ ہوجاتا ہے اور جو شخص بھی باطل کا پیرو ہوتا ہے یا باطل کا نتیجہ ہوتا ہے وہ ضائع ہونے والا ہوتا ہے اور کافر چونکہ باطل کے پیروکار ہوتے ہیں اس لیے ان کے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں اور ان میں سے کوئی مفید چیز باقی نہیں رہتی۔ اور حق چونکہ مستقل ہوتا ہے ، آسمان و زمین بھی اس پر قائم ہیں ، اس کی جڑیں اس کائنات میں بہت دور تک چلی جاتی ہیں۔ اس لیے وہ باقی ہوتا ہے اور مومن چونکہ اس کے پیرو کار ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو بھی دوام حاصل ہوتا ہے اور اللہ ان کی کوتاہیوں کو معاف کرتا ہے اور ان کی اصلاح حال فرماتا ہے۔
یہ ایک واضح اور طے شدہ معاملہ ہے اور متعین اصولوں پر اور متعین اسباب پر قائم ہے لہٰذا اس میں کوئی اتفاقی امر نہیں ہے یا محض تک پر مبنی نہیں ہے۔
کذلک یضرب اللہ الناس امثالھم (47 : 3) “ اسی طرح اللہ لوگوں کو اس کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتا دیتا ہے ”۔ یعنی ایسے اصول اللہ بتا دیتا ہے جس کے مطابق وہ اپنے نفس اور اعمال کو تولتے ہیں اور وہ ان معیاروں کو جانچتے ہیں جن کے مطابق وہ اپنے معاملات چلاتے ہیں اور قیاس اور پیمانوں میں خود مختار نہیں ہیں۔
یہ اصول تو پہلی آیت میں طے کردیا گیا ، اس کے بعد اہل ایمان کو ہدایت کردی گئی کہ وہ جنگ کے لئے تیار ہوجائیں کیونکہ وہ حق کے پیروکار ہیں اور اس حق کا قیام اور غلبہ اس کرۂ ارض پر ضروری ہے۔ حق کی فطرت میں غلبہ ہے۔ اس نے لوگوں کی زندگی کے پیمانے طے کرنے ہیں ، لوگوں کی زندگی کو حق کے اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہے ، اور کافر چونکہ باطل پر ہیں ، اس لیے باطل اور اہل باطل دونوں کے آثار کا مٹنا ضروری ہے۔