درس نمبر 242 ایک نظر میں
یہ سبق منافقین کے بارے میں ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ ان کا موقف رسول اللہ ﷺ کی ذات کے بارے میں کیا تھا ؟ قرآن کے بارے میں کیا تھا ؟ پھر مسلمانوں پر جہاد فرض ہوگیا تھا۔ اس کے بارے میں وہ کیا سوچتے تھے ؟ یاد رہے کہ یہ جہاد صرف اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے تھا ؟ پھر یہ کہ مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے مخالف اسلام یہودی قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ تعلقات ان مقاصد کے لئے تھے۔ یہ کہ ان خفیہ سازشوں کی وجہ سے یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔
تحریک نفاق مدینہ کی پیدا وار ہے۔ مکہ میں اس کا وجود ہی نہ تھا کیونکہ مکہ میں ایسے حالات ہی نہ تھے جن میں کسی کو منافق بننے کی ضرورت پیش آتی مکہ میں مسلمان دبے ہوئے تھے۔ لہٰذا کسی کو منافق بننے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ جب اللہ نے مدینہ میں اوس اور خزرج کے ذریعہ اسلام کو عزت بخشی اور مدینہ کے اکثر خاندانوں میں اسلام پھیل گیا۔ اکثر لوگ مسلمان ہوگئے تو بعض ایسے لوگ بھی دیکھا دیکھی مسلمان ہوگئے جو حضرت محمد ﷺ کو پسند نہ کرتے تھے کہ آپ اور اسلام یہاں قوت پکڑیں۔ یہ لوگ مسلمان تو ہوگئے لیکن ان کے دل اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی دشمنی سے بھرے ہوئے تھے۔ اور وہ اس آرزو میں بیٹھ گئے تھے کہ حالات گردش میں آئیں اور اس نئی قوت پر ضرب لگائی جائے۔ ان کا سربراہ عبد اللہ ابی بن سلول تھا۔ یہ مشہور زمانہ منافق تھا۔
مدنی دور کے آغاز میں یہودی مدینہ میں ایک زبردست فوجی ، اقتصادی اور تنظیمی قوت رکھتے تھے۔ یہ لوگ بھی حضرت محمد ﷺ کے غلبے کو پسند نہ کرتے تھے۔ نہ آپ کے دین اور آپ کے متبعین کو پسند کرتے تھے۔ یہودیوں کا یہاں اس پوزیشن میں موجود ہونا بھی منافقین کے لئے ایک سہارا تھا۔ اور اس مشترکہ دشمنی نے ان کو جلد ہی ایک دوسرے بنا دیا۔ لہٰذا یہ دونوں قوتیں ہر موقعہ پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کرتیں۔ اگر مسلمانوں پر مشکل حالات ہوتے تو یہ اپنی منافقت اور بغض و عداوت کا اظہار کردیتے۔ اور اگر مسلمان اچھی حالت میں ہوتے تو یہ خفیہ اور اندھیروں میں ان کے خلاف سازشوں کا تانا بانا تیار کرتے۔ مدینہ کے دس سال عہد حکومت میں پانچ سالوں تک یہ اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ بنے رہے۔
مدینہ میں جس قدر سورتیں نازل ہوئی ہیں ان میں تواتر کے ساتھ منافقین کی سازشوں ، عداوتوں اور ان کے نفاق کا ذکر ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ یہ لوگ یہودیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اور ان سے ہدایات لیتے ہیں اور بعض سازشوں میں شریک ہیں۔ یہ سبق ان میں سے ایک ہے جس میں یہودیوں اور منافقین کے اشتراک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
منھم (ان میں سے) کا اشارہ کافروں کی طرف بھی ہو سکتا ہے کیونکہ درس سابق میں کافروں سے بحث تھی اور درحقیقت منافقین بھی کافر ہی تھے۔ اگرچہ چھپے ہوئے کافر تھے۔ اللہ نے یہاں ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کو کافروں میں شمار کیا ہے کہ ان کافروں میں سے بعض منافقین ہیں۔
اور یہ اشارہ مسلمانوں کی طرف بھی ہو سکتا ہے یعنی مسلمانوں میں سے بعض منافقین ہیں۔ کیونکہ منافقین باقاعدہ نماز بھی پڑھتے تھے اور اسلام بظاہر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے ساتھ معاملہ کرتا تھا ۔ لیکن دونوں صورتوں میں یہ منافق ہی تھے۔ آیت میں ان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ ان میں تھیں اور یہ پورا سبق ان کے بارے میں ہے۔
یہ لوگ مجلس میں ہوں بیٹھے ہوئے کہ گویا ہمہ تن گوش ہیں اور اچھی طرح بات سن رہے ہیں لیکن در حقیقت یہ سن نہیں رہے ہوتے تھے۔ بلکہ “ برزبان تسبیح و در دل گا ؤخر ” کا مصداق ہوتے اور اگر سنتے بھی تو ان کے دل کو بات لگتی ہی نہ تھی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اہل علم سے طنزاً پوچھتے ہوں کہ بتائیے جناب ابھی کیا کہا صاحب نے۔ یعنی ہمارے پلے تو کوئی بات پڑی نہیں ہے۔
اس سے ان کی مراد یہ اشارہ بھی تھا کہ ہم تو ان باتوں کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتے لیکن اہل علم حضرت کی باتوں کا ایک ایک لفظ یاد کرتے ہیں۔ الفاظ بھی اور معانی بھی ۔ صحابی کرام کا طریقہ بھی یہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کے الفاظ اور معانی دونوں کو یاد کرتے تھے۔ اور یہ لوگ یعنی منافقین ان الفاظ اور معانی کو بطور مزاح دہراتے تھے۔ ان سب باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ نہایت بدفطرت ، اسلام کے معاند ، اندھے اور اسلام کے ترقی پذیر حالات میں جل بھن گئے تھے۔
اولئک الذین ۔۔۔۔۔ اھوائھم (47 : 16) “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ”۔ یہ تو تھا منافقین کا حال ۔ رہا اہل ہدایت کا حال تو وہ اس کے برعکس تھا۔