You are reading a tafsir for the group of verses 46:33 to 46:34
اولم يروا ان الله الذي خلق السماوات والارض ولم يعي بخلقهن بقادر على ان يحيي الموتى بلى انه على كل شيء قدير ٣٣ ويوم يعرض الذين كفروا على النار اليس هاذا بالحق قالوا بلى وربنا قال فذوقوا العذاب بما كنتم تكفرون ٣٤
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَـٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٣٣ وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيْسَ هَـٰذَا بِٱلْحَقِّ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ٣٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

زمین و آسمان جیسی عظیم کائنات کا وجود میں آنا، اور پھر اربوں سال سے اس کا نہایت صحت اور ہم آہنگی کے ساتھ چلتے رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا عظیم ترین طاقتوں کا مالک ہے۔ نیز یہ کہ اس کائنات کو وجود میں لانا اس کے لیے عجز کا باعث نہیں بنا۔ تخلیق کا عمل اگر اسے تھکا دیتا تو تخلیق کے بعد وہ اتنی صحت کے ساتھ چلتی ہوئی نظر نہ آتی۔

خدا کی عظیم طاقت و قدرت کا مظاہرہ جو کائنات کی سطح پر ہو رہا ہے وہ یہ یقین کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسانی نسل کو دوبارہ زندہ کرنا اور اس سے اس کے اعمال کا حساب لینا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔

موجودہ دنیا میں آدمی کے سامنے حقیقت آتی ہے مگر وہ اس کو نہیں مانتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں حقیقت کے انکار کا انجام فوراً سامنے نہیں آتا۔ آخرت میں انکار کا ہولناک انجام ہر آدمی کے سامنے ہوگا۔ اس وقت وہ انتہائی حد تک سنجیدہ ہوجائے گا اور اس حقیقت کا فوراً اقرار کرلے گاجس کو موجودہ دنیا میں وہ ماننے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔