انساني نسل كا طريقه يه هے كه آدمي ايك ماں اور ايك باپ كے ذريعه وجود ميں آتا هے جو اس كي پرورش كركے اس كو بڑا بناتے هيں۔ يه گويا انسان كي تربيت كا فطري نظام هے۔ يه اس ليے هے كه اس كے ذريعے سے انسان كے اندر حقوق وفرائض كا شعور پيدا هو۔اس كے اندر يه جذبه پيدا هو كه اسے اپنے محسن كا احسان ماننا هے اور اس كا حق ادا كرنا هے۔ يه جذبه بيك وقت انسان كو دوسرے انسانوں كے حقوق ادا كرنے كي تعليم ديتا هے اور اسي كے ساتھ خالق ومالك خدا كے عظيم تر حقوق كو ادا كرنے كي تعليم بھي۔
جو لوگ فطرت كے معلم سے سبق ليں۔ جو لوگ اپنے شعور كو اس طرح بيدار كريں كه وه اپنے والدين سے لے كر اپنے خدا تك هر ايك كے حقوق كو پهچانيں اور ان كو ٹھيك ٹھيك ادا كريں، وهي وه لوگ هيں جو آخرت ميں خدا كي ابدي رحمتوں كے مستحق قرار دئے جائيں گے۔