آیت 26{ قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے ‘ پھر وہی تمہیں موت دے گا“ کہ میں نے تو کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں کسی کو زندہ کروں گا۔ ہر کسی کی زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اب وہ حضرات جو اس کائنات اور انسانی زندگی کو مادّیت اور دہریت کی عینک سے دیکھتے ہیں ‘ انہیں یہ بات بھلا کیونکر سمجھ میں آسکتی ہے کہ ہم اس سے پہلے ایک زندگی اور ایک موت کے مراحل طے کر کے اس دنیا میں آئے ہیں ! وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو : سورة المومن ‘ تشریح آیت 11 { ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”پھر تمہیں جمع کرے گا قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں ‘ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔“