درس نمبر 236 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری پیراگراف ہے۔ اس میں آخرت کے حساب و کتاب اور حشر ونشر کے بارے میں مشرکین کے عقائد و خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس پر تردید کے لئے خود ان کے وجود کو پیش کیا گیا ہے کہ آخر تم موجود ہو اور کوئی تمہیں اٹھائے ہوئے ہے۔ اس سے تو تم انکار نہیں کرسکتے ہو۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا وقت تو اگرچہ معلوم نہیں ہے لیکن وہاں تمہارے ساتھ یہ کچھ ہونے والا ہے اور یہ منظر نہایت ہی موثر کلمات میں پیش کیا جاتا ہے۔
سورت کا خاتمہ الحمد للہ پر ہوتا ہے کہ اللہ واحد ہے ، وہ رب ہے ، تمام جہان والوں کا رب ہے۔ اس کی عظمت اور اس کی کبریائی بہت ہی بڑی ہے اور تمام آسمانوں اور زمینوں میں وہ منفرد ہے۔ کوئی اس کے مقابل کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کوئی اس کی بادشاہت میں دست درازی نہیں کرسکتا اور وہ عزیز و حکیم ہے۔
٭٭٭٭
درس نمبر 236 تشریح آیات
24 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 37
آیت نمبر 24 تا 26
قیامت کے بارے میں ان کا نظریہ اس قدر کوتاہ بینی پر مبنی تھا کہ ان کے نزدیک زندگی بس یہی تھی جسے وہ اس زمین پر گزرتی دیکھ سکتے تھے۔ ایک نسل ہے جو پیدا ہوتی ہے اور گزرتی چلی جاتی ہے۔ بظاہر موت کوئی چیز نہیں ہے سوائے اس کے کہ وقت گزرتا ہے اور ہم مرنتے ہیں اور زمانہ لپیٹتا چلا جاتا ہے۔ گویا یہ زمانہ ہے جو تمام فیصلے کرتا ہے اور ان پر موت طاری کرتا ہے اور وہ مر جاتے ہیں۔
یہ ایک سطحی نظریہ تھا۔ صرف ظاہری حالات کو دیکھ کر اسے اختیار کیا گیا ہے ، زندگی کے پیچھے جو اسر اور موز تھے ان کو تلاش کرنے کی اس میں کوشش ہی نہیں کی گئی تھی۔ سوال یہ تھا کہ زندگی کہاں سے آگئی ؟ اور کون ہے جو زندگی واپس لے لیتا ہے۔ موت کچھ متعین دنوں کے بعد تو نہیں آجاتی کہ انہوں نے زمانے کے ساتھ موت کو وابستہ کردیا۔ بچے بھی بوڑھوں کی طرح مرتے ہیں اور صحت مند لوگ بھی تو مرتے ہیں۔ جس طرح بیمار لوگ مرتے ہیں۔ ضعیف لوگوں کی طرح ہٹے کٹے بھی مرتے ہیں۔ لہٰذا اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو زمانے کا تعلق موت وحیات سے نہیں ہے۔ بشرطیکہ کوئی موت کی حقیقت کو جاننا چاہئے ۔ چناچہ کہا گیا :
وما لھم بذلک من علم ان ھم الا یظنون ) 45 : 24) “ در حقیقت اس معاملے میں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر باتیں کرتے ہیں ”۔ یہ محض ظن وتخمین کے پائے چوبین پر چل رہے ہیں۔ ان کے خیالات بجھے ہوئے ہیں اور ان کے نفوش دھندلے ہیں۔ گہرے غوروفکر پر مبنی نہیں ہیں ، نہ کسی علم پر مبنی ہیں۔ اس کائنات کے حقائق کا ادراک ان کو نہیں ۔ موت وحیات کے جو حالات انسان پر طاری ہوتے ہیں ، یہ ان کے صرف سطحی اسباب دیکھتے ہیں۔ حقیقی اسباب نظروں سے اوجھل ہیں۔ انہوں نے صرف اس قدر معلوم کیا ہے کہ زیادہ دن گزر نے کے بعد انسان کمزور ہوتا ہے اور مرجاتا ہے۔
واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (45 : 25) “ اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ ان کی یہ بات بھی نہایت سطحی سوچ پر مبنی ہے اور اس سے پہلے انہوں نے اس کائنات کے قوانین فطرت کا مطالعہ نہیں کیا۔ اس دنیا میں اللہ نے حیات و ممات کے لئے جو نظام تحریر کیا ہے اور ان کے جو اسرار و رموز مقررہ کئے ہیں ، ان پر انہوں نے گہرے انداز میں نہیں سوچا۔ اس کے اندر گہری حکمت کارفرما ہے۔ لوگ اس جہاں میں آتے ہیں اور آتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ کے نظام میں ان کو یہاں فرصت عمل مہیا کی جا رہی ہے۔ مرنے کے بعد ان کو ایک مقررہ وقت پر دوبارہ اٹھایا جائے گا اور یہاں انہوں نے جو کچھ کیا ، اس پر ان کا حساب و کتاب دینا ہوگا۔ لہٰذا حشر و نشر سے پہلے اللہ کے نظام کے مطابق انہیں یہاں نہیں اٹھایا جاسکتا۔ قیامت کے مقررہ دن سے پہلے یہاں ان کا اٹھانا حکمت آزمائش کے خلاف ہے۔ بعض لوگ یہ تجویز کرتے ہیں کہ ہر پرچہ قبل از وقت آؤٹ کر دیاجائے۔ لیکن اللہ کا اپنا کام اور نظام ہے اور اس کی اپنی حکمت اور اسکیم ہے۔ جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ لہٰذا اس احمقانہ تجویز کے مطابق اللہ کی پوری اسکیم کو نہیں بدلا جاسکتا۔ یہ قرآن استدلال کا کوئی معقول جواب دینے کی بجائے بس یہ کہتے ہیں :
ائتوا بابائنا ان کنتم صدقین ) 45 : 25) “ کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو ”۔ سوال یہ ہے کہ اللہ وقت مقررہ سے پہلے ان کے باپ دادا کو کیوں اٹھا لائے۔ اس میعاد سے قبل جو اس نے اس پوری کائنات کے لئے مقرر کر رکھی ہے ؟ محض اس لیے کہ ان کو یہ یقین آجائے کہ اللہ مردوں کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ اپنی سنت کے مطابق ان کی آنکھوں کے سامنے ہر لمحہ اور ہر لحظہ زندگی کو اٹھا نہیں رہا ہے۔
قل اللہ یحییکم ۔۔۔۔۔ لا ریب فیہ (45 : 26) “ ان سے کہو کہ اللہ تمہیں زندگی بخشتا ہے۔ پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے۔ پھر وہی تم کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے ”۔ یہی تو وہ معجزہ ہے جسے وہ اپنے آباؤ اجداد کو لے آنے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ ان کی آنکھوں کے سامنے واقع نہیں ہو رہا ہے۔ بعینہ وہی معجزہ ۔ اللہ ہی تو ہے جو انسان کو پیدا کئے جا رہا ہے۔ وہی تو ہے جو مارتا ہے۔ آخر میں اس میں کیا انہونی بات ہے کہ اللہ قیامت کے دن دوبارہ جمع کرے گا۔ اس میں آخر کیوں وہ شک میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ جس چیز سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے۔ اس کی نظیر خود ان کی زندگی ہے۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (45 : 26) “ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ”۔ اللہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ وہ ہر چیز کو بنانے والا ہے۔ وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ، اگر اس نے پہلے پیدا کی ہے اور تم مانتے ہو کہ کیا ہے۔
لیکن اللہ ان کے سامنے منطقی دلائل کی بجائے ایک منظر پیش فرماتا ہے :